گزشتہ چار دنوں میں غیرت کے نام پر عورت کے قتل کے دو لرزہ خیز واقعات سامنے آئے ہیں،جس میں ایک چیچہ وطنی میں ایک نوجوان نے محض شک کی بنیاد پر غیرت میں آ کر اپنی ماں اور تین بہنوں کو قتل کر دیا،جبکہ دوسرے واقعے میں جیکب آباد میں دیور نے بھابھی اور بھتیجی کو قتل کر دیا۔غیرت کے نام پر قتل کوئی نئی بات نہیں ،چاہے عورت قصور وار ہو ےا نہیں لیکن وہ اپنے باپ،بھائی،شوہر اور دیگر رشتہ داروں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اترتی رہتی ہے،ان واقعات کی بنیادی وجوہات کیا ہوتی ہیں،یہ بتا رہے ڈاکٹر صابر حسین جو ایک معروف نفسیات دان ہیں۔
ان واقعات کے محرکات میں چند مخصوص نفسیاتی بیماریوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،ڈاکٹر صابر حسین کہتے ہیں کہ بعض اوقات ان بیماریوں کا بظاہر پتہ نہیں چلتا اور مریض صحت مند نظر آتا ہے لیکن ایک معمولی سی تکرار یا محض شک کی بنیاد پر اسی بیماری کے زیر اثر بنا سوچے سمجھے قتل جیسا انتہائی اقدام کر بیٹھتا ہے۔
دین اسلام نے عورت کو ایک نہایت اعلیٰ مقام عطا کیا ہے،اسلام میں کسی عورت کو قتل تو کیا اس پر ہاتھ اٹھانے کی بھی اجازت نہیں ہے،غیرت کے نام پر خواتین کے قتل کے بارے میں اسلام میں کیا تعلیمات ہیں ،اس بارے میں مفتی نعیم کہتے ہیں۔
مہناز رحمان عورت فاﺅنڈیشن کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر ہیں،ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں اس طرح کے سنگین واقعات کے روک تھام کے لئے حکومت کو سخت سے سخت سے اقدامات اٹھانا ہونگے۔
ہمارے معاشرے میں آج بھی خواتین کا معاشی و جسمانی استحصال جاری ہے،اور اس ضمن میں حکومت کے بلند بانگ دعوﺅں کے باوجود بھی پاکستانی عورت حالات کی بھٹی میں جلتی اور غیرت کے نام پر اپنے خونی رشتوں کے ہاتھوں قتل ہو رہی ہے،جس سے بین الاقوامی طور پر پاکستان کا تشخص بری طرح مسخ ہو رہا ہے،حکومت کو اس طرف توجہ دینے کی نہایت سخت ضرورت ہے تا کہ بیرونی دنیا میں پاکستان کے گرتے ہوئے تشخص کو سنبھالا دیا جاسکے۔