High Thyroid Cancer Rates Detected in Fukushima Children – فوکوشیما سانحے کے بعد کینسر کی شرح میں اضافہ

جاپان میں فوکو شیما جوہری سانحے کے بعد بچوں میں تھائی رو ئڈ کینسر کی شرح میں اضافے کا انتباہ سامنے آیا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

دو سالہ یو تا کو ئیکی زیرعلاج ہے، ہر بار جب بھی نرس اس کے گلے کا معائنہ کرنے کی کوشش کرتی تو وہ رونے اور لاتیں چلانے لگتا اور بستر سے نیچے اترنے کی کوشش کرتا۔ اسکی ماں توموکو کو ئیکی، یوتا اور اپنی چار سالہ بیٹی کو تھائی روئڈ گلینڈ اسکریننگ کیلئے لیکر آئی ہیں، انہیں ڈر ہے کہ فوکو شیما جوہری پلانٹ کے حادثے سے ان کے بچے کسی موذی مرض کا شکار نہ ہوچکے ہوں۔

توموکو”میں فکرمند ضرور ہوں مگر مجھے یقین ہے کہ وہ ٹھیک ہوجائیں گے۔ مجھے توقع ہے کہ سب کچھ اچھا ہی ہوگا”۔

جوہری سانحے سے پہلے طبی ماہرین کا اندازہ تھا کہ فوکیو شیما کے بچوں میں تھائی روئد کینسر کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے، مگر اس حادثے کے بعد مقامی حکومت نے بڑے پیمانے پر اسکریننگ پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اب تک دو لاکھ سے زائد بچوں کے ٹیسٹ ہوچکے ہیں، جن میں سے اٹھارہ میں کینسر کی تصدیق ہوگئی ہے، جبکہ پچیس مشتبہ کیسز ہیں۔ اکیرا سو گینویا، میتسوموٹو سٹی کے مئیر ہیں۔

اکیرا”فوکو شیما کے بچوں میں تھائی روئڈ کینسر کے کیسز کی شرح بڑھ رہی ہے، فوکوشیما کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ شرح تیزی سے نہیں بڑھ رہی اور نہ ہی اس کا جوہری حادثے سے کوئی تعلق ہے، مگر یہ غیرسائنسی بات ہے اور اس بات کو ہم قبول نہیں کرسکتے”۔

تاہم دیگر ماہرین کا ماننا ہے کہ ابھی ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔

جیریلیڈائن”فوکوشیما سانحے سے مجھے تو نہیں لگتا کہ جاپان میں تھائی روئڈ کینسرکی شرح میں کسی قسم کا اضافہ ہوا ہے”۔

پروفیسر جیریلڈائن تھامسن، ایمپیریل کالج لندن سے تعلق رکھتی ہیں، انھوں نے روس کے علاقے چر نو بل میں 1986ءکو پیش آنے والے جوہری سانحے کے بعد ریڈی ایشن اثرات کا جائزہ لینے کیلئے چر نو بل ٹشو بینک قائم کیا تھا، وہ فوکوشیما کے بچوں میں کینسر کی شرح میں خطرے کی وجوہات بیان کررہی ہیں۔

تھامسن”اگر آپ مسئلے کا جائزہ لیں خصوصاً انتہائی حساس تیکنیک کا استعمال کرکے جائزہ لیا جائے تو آپ کو کافی مسائل نظر آجائیں گے”۔

ہر شخص متفق ہے کہ اس کینسر کی تشخیص ابتدائی مرحلے میں ہی ہو جانی چاہئے کیونکہ اس سے صحت یابی میں کافی مدد مل جاتی ہے، تاہم فوکوشیما کے طبی حکام اس حوالے سے خفیہ طریقے سے کام کررہے ہیں اور وہ کسی بات کا جواب دینا تک گوارہ نہیں کرتے۔انھوں نے بنیادی اعدادوشمار بھی کینسر اسپیشلسٹ اکیرا سوگی نو ئیا کو دینے سے انکار کردیا۔

اکیرا”مجھے بہت غصہ ہے، میرے خیال میں حکام کے پاس یہ ڈیٹا موجود ہے، مگر یہ بات عجیب ہے کہ وہ اسے جاری کرنے کیلئے تیار نہیں”۔

اور صرف تھائی رو ئڈ کینسر کا ڈیٹا ہی خفیہ نہیں رکھا جارہا بلکہ اس حوالے سے بچوں کی اسکریننگ کے ریکارڈ کو بھی چھپایا جارہا ہے۔اپنے بچوں کیلئے فکرمند والدین جیسے توموکو کو ئیکی حکام کے روئیے پر مزید پریشان ہیں۔

توموکو”مجھے نہیں لگتا کہ وہ ہمیں سب کچھ بتارہے ہیں، میں ان کی باتوں پر اعتماد نہیں کرسکتی، اس چیز نے مجھے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند کردیا ہے”۔