کہنے کو تو ہم ایک ترقی پذیر ملک کے باسی ہیں لیکن اکثریت آج بھی جہالت کے اندھیروں اور رسوم و رواج کے تحت زندگی گزار رہی ہے ،اور خواتین آج بھی ہر طرح کے استحصال کا شکار ہیں ،اور آج بھی ردا کے تقدس کا خیال نہیں رکھا جاتا،خصوصا ملازمت کرنے والی خواتین کو سب سے زیادہ استحصال کا شکار ہوتی ہیں،لیکن اب وفاقی سطح پر اور حکومت سندھ کی جانب سے ملازمت کی جگہوں پر ہراساں کئے جانے والی خواتین کی شکایات سننے اور ان کا ازالہ کرنے کے لئے ایک محتسب کا تقرر کیا گےا ہے ،جن کی پاس خواتین بلا خوف و خطر اور بلا کسی تفریق و امتیاز کے ملازمت کی جگہ پر خود کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف شکایت درج کروا سکتی ہیں اور فوری انصاف بھی پا سکتی ہیں، وفاق کی طرف سے مس مسرت ہلالی اور سندھ حکومت کی طرف سے سید پیر علی شاہ کو محتسب مقرر کیا گیا ہے،خواتین کو ان کی ملازمت کی جگہ پر مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے جس کی وہ شکایات بھی نہیں کر پاتیں،اس کی وجوہات کیا ہیں ،اس بارے میں رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی کا کہنا ہے،
خواتین میں خود کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف شکایات درج کروانے کے حوالے سے کتنی آگاہی ہے اور شکایات درج کرواتے وقت ان کی عزت نفس اور ملازمت کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے کیا اقدامات کئے جانے چاہئیں اس بارے میں نصرت سحر عباسی کا کہنا ہے،
ملازمت کی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لئے محتسب مقرر کرنے سے کیا خواتین کو انصاف مل سکے گا،اس بارے میں رکن صوبائی اسمبلی نصرت سحر عباسی کا کہنا ہے،
خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لئے ایک بہت ضروری اقدام مردوں کی ذہنی تربیت بھی ہے،اگر ایک مرد عورت کی اہمیت ،عزت و تکریم کو دل سے سمجھے اور قبول کرے تو اس طرح سے بھی خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات ختم کئے جا سکتے ہیں،نصرت سحر عباسی اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں،
خواتین کا جذباتی اور جسمانی استحصال کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ مشرق کی یہ بیٹی ایک ماں بھی ہے،بیٹی بھی ہے ،بیوی بھی اور بہن بھی۔آج ہمارے بگڑتے ہوئے معاشرے میں عورت یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ وہ دن کب آئے کا جب اس کو بھی انسان جان کر اس کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کیا جائے گا،وفاقی اور سندھ حکومت کی طرف سے محتسب کا تقرر ایک نہایت ہی اطمینان بخش اور خوش آئیند اقدام ہے،لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ دیگر صوبوں میں اسی طرح کے محتسب کا تقرر کیا جائے تا کہ پاکستان میں موجودہر عورت کی عزت و حیا محفوظ رہ سکے اور وہ مطمئن ہو کر اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔