ٹھیلوں، ریڑھیوں اور فٹ پاتھ پر بکنے والے غیر معیاری لیکن اشتہا انگیز کھانے طالبات کیلئے توجہ کا مرکز ٹھہرتے ہیں، جا بجا لگے چاٹ، گول گپوں ،چھولوں اور پکوڑوںکے اسٹالز سے اُٹھتی اشتہا انگیز خوشبو ہر راہ چلتے کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں خصوصاً نوجوان لڑکیوں کی بڑی تعداد کھٹے مصالحے دار لیکن غیر معیاری کھانوں کی طرف جلد راغب ہوتی ہے۔ اس سلسلے میںپاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ چیپٹر کی صدر ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے ہمیں بتایاکہ ریڑھیوں پر ملنے والے کھانوں میں صفائی کا خیال نہیں رکھاجاتا جو کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے:
ٹھیلوں اور نچلے درجے کے ہوٹلوں میں ملنے والے چٹخارے دار کھانوں میں غذائیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جبکہ عموماًان میں گھٹیا کوالٹی کا تیل یا گھی استعمال کیا جا تا ہے ،جو کم عمر لڑکیوں میں وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے :
اسکے علاوہ نوجوان نسل خصوصاً لڑکیوں میں فاسٹ فوڈ کاجحان بڑھ رہا ہے،سالگرہ اور سیلیبر یشن جیسے مختلف مواقعوں پر ریسٹورنٹس کی رعایتی ڈیلز سے استفادہ حاصل کرنے کے علاوہ زنگر برگر، کلب سینڈوچ اور پیزا جیسے کھانے اب نئی نسل کی روٹین کا حصہ بن چکے ہیں ،ان کھانوں میں کونسے غذائی اجزاءاستعمال کئے جاتے ہیں اس بارے میں ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کہتی ہیں:
نوجوان نسل کا پسندیدہ مشروب مختلف ناموں سے مارکیٹ میں متعارف کروائی گئی سافٹ ڈرنکس بھی ہیں جن کے نقصان دہ اثرات سے بیشتر لوگ قطعی ناواقف ہیں:
ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کا کہنا ہے کہ کھانوں میں غذائیت کا دھیان نہ رکھنا اور ہر روز باہر جا کرکھانے کی عادت اپنانا عموماً بچے گھروں سے سیکھتے ہیں ، اسکے علاوہ جنک فوڈز اور سافٹ ڈرنکس کے اشتہارات بھی نوجوان نسل کیلئے باعث کشش ٹہرتے ہیں، ایسے میں صحت بخش غذائی عادات کو فروغ دینے میں والدین بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں:
فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس سے لے کر ٹھیلوں پر بکنے والے غیر معیاری کھانوں کے نقصانات اور حفضان صحت کے اصولوں سے آگہی رکھنا لڑکیوں کیلئے بے حد ضروری ہے کیونکہ کم عمری میں نظام انہظام جلد متاثر ہوتا ہے اور اسکے اثرات بڑھتے ہوئے وزن اورنتیجتاً ہارمونز کی خرابی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں جو دیرپا ہو سکتے ہیں۔
