Hamid Ali Bela Death Anniversary – معروف فوک گائیک استاد حامد عی بیلہ کا یوم وفات

میرا سوہنا سجن گھر آیا نی جیسے صوفیانہ کلام گا کر شہرت حاصل کرنے والے معروف لوک گلوکار حامد علی بیلا 1925ءکو پیدا ہوئے، ان کا تعلق بھارت کے شہر امرتسر سے تھا۔ تقسیم ہندوستان کے بعد حامد علی بیلا خاندان کے ہمراہ لاہور آگئے اور فن گلوکاری سے وابستہ ہوگئے۔

حامد علی بیلا نے گلوکاری کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا اور ان کی گلوکاری کی اصل پہچان عارفانہ کلام بنی۔

انہوں نے اپنی پوری زندگی حضرت مادھو لعل حسین کے کلام کے نام منسوب کر رکھی تھی اور یہی کلام ان کے فن اور ذات کی پہچان بن گیا، جس کی مثال مائیں نی میں کنوں آکھاں ہے۔

ان کی پر اثر آواز اور دلکش انداز کا ایک وسیع حلقہ معترف ہے۔ ہر دلعزیز حامد علی بیلا کو قدرت نے شہرت اور عزت سے نوازا لیکن ان کے حصے میں کبھی مالی آسودگی کا سکھ نہ آ سکا۔

آج بھی ان کے پچیس نفوس پر مشتمل پسماندگان اندرون لاہور کے محلے چونا منڈی میں ڈیڑھ مرلہ کے مکان میں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے میں مجبور ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

حضرت مادھو لعل حسین کا یہ فقیر گیارہ سال پہلے آج ہی کے روز 76 برس کی عمر میں اس جہانِ فانی سے ناطہ توڑ گیا لیکن اس کی آواز کا جادو ہر دور اور نسل کے لوگوں کو اپنا گرویدہ بناتا رہے گا۔