پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں شرح خواندگی انتہائی کم ہے ،خواتین پر تشدد یا سر راہ خواتین کو ہراساں کرنے جیسے واقعات کو معمولی سمجھا جاتا ہے نہ کوئی رپورٹ درج ہوتی ہے اور نہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی یہی وجہ ہے کہ خواتین کو ذہنی اذیت دینے یا جسمانی تشدد کے نت نئے واقعات منظر عام پر آتے رہتے ہیں،کہیںرکشہ ڈرائیور کے ہاتھوں خواتین کا بہیمانہ قتل تو کہیں تیزاب گردی کے واقعات ۔۔۔اسی طرح حال ہی میں گجرانوالہ میں راہ چلتی خواتین خصوصاً طالبات پر ایک مخصوص گروہ کی جانب سے تیز دھار آلے سے وار کرنے کے درجنوں واقعات سامنے آئے ہیں۔
متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار کچھ نوجوان لڑکے راہ چلتی خواتین کی کمر پر تیز دھار آلے سے وار کرتے ہیں جس سے خواتین لہو لہان ہو جاتی ہیں ، تاحال ان واقعات میں ملوث کسی بھی گینگ کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے،اس حوالے سے قانون نافذکرنے والے اداروں کا کیا کہنا ہے ،جانتے ہیں:
اِس نوعیت کے واقعات سے گجرانوالہ کی خواتین خصوصاً طالبات میں بے حد خوف وہراس پایا جاتا ہے بیشتر خواتین نے روز مرہ امور کیلئے بھی گھروں سے نکلنا چھوڑ دیا ہے ۔ایسے ہی ایک حادثے کا شکار ہونے والی خاتون کا کہنا ہے:
گجرانوالہ میںاوباش نوجوانوں پر مشتمل گروہ کی مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث اب تک درجنوں خواتین زخمی ہو چکی ہیںلیکن نہ تودرج کی گئی رپورٹس پر کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے اور نہ ہی ان اِفراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ہمارے معاشرے میں تیزی سے بڑھتے پر تشدد واقعات کے پیچھے کون سے نفسیاتی اور سماجی عوامل کارفرما ہیں اس سلسلے میں ہم نے سماجی کارکن فرزانہ باری سے بات کی تو انھوں نے کہاکہ یہ رجحان انتہائی خطر ناک ہے:
گھریلوخواتین پر ذہنی اور جسمانی تشدد کیا جائے یا راہ چلتی خواتین کو خوف ذدہ کرنے کیلئے ان پر حملہ کیا جائے دونوں صورتوں میں خواتین اذیت کا نشانہ بنتی ہیں۔ان واقعات کی روک تھام کیلئے موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد کو عبرت ناک سزا ملنی چاہئیے تاکہ خواتین کو ہراساں کرنے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔