Goitter and Iodised salt آیو ڈین کی کمی نقصانات

آیوڈین کی کمی کے باعث صحت کے سنگین مسائل دیکھنے میں آتے ہیں، ایک سروے کے مطابق پاکستان کی نصف آبادی خصوصاً شمالی علاقہ جات میں رہنے والے افراد میں آیوڈین کی کمی کا رسک سب سے زیادہ ہے۔پاکستان نیوٹریشنل سروے کے مطابق خواتین میں گلہڑ کی شرح21فیصد جبکہ بچوں میں6.7فیصد ہے خصوصاًدیہی آبادیوںمیں آیوڈین کی کمی کے حوالے سے زیادہ مسائل دیکھنے میں آتے ہیں۔ آغا خان اسپتال کراچی میں بحیثیت گائنا کالوجسٹ خدمات انجام دینے والی ڈاکٹر شبین ناز کا کہنا ہے کہ آیوڈین کی کمی سے نہ صرف گلہڑ بلکہ صحت کے دیگر مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں:
گلہڑ کی سب سے بڑی وجہ آیوڈین کی کمی ہے ،جسکے باعث بچوں میں ذہنی معذوری دیکھنے میں آتی ہے،نہ صرف یہ بلکہ جن خواتین کو دوران حمل آیوڈین کی کمی کا سامنا ہو اُنکی ہونے والی اولاد میں آیوڈین کی کمی کا رسک بہت زیادہ ہوتا ہے، اس بارے میں ڈاکٹرشبین ناز ہمیں بتاتی ہیں:
دنیا بھر میں مردوں کی نسبت خواتین اور بچوں میں گلہڑ سمیت آیوڈین کے باعث جنم لینے والے صحت کے مسائل زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔پاکستان میںشمالی علاقہ جات اُن علاقوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں آیوڈین کی کمی صحت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔گلگت، اسکردو،چترال،بلتستان، خنجراب اور سوات کے علاقوں میںتقریباً70فیصد آبادی آیوڈین کی کمی کا شکار ہے۔ڈاکٹرشبین ناز کا کہنا ہے کہ رپورٹس اور ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی گلہڑ کے کافی زیادہ کیسز موجود ہیں یوں کہا جا سکتاہے کہ یہ مسئلہ اب صرف شمالی علاقہ جات تک محدود نہیں رہا:
گوائٹر یا گلہڑ کی کیا علامات ہیں ،اس بارے میں ڈاکٹر شبین ناز کہتی ہیں:
دنیا بھر میں ماہرین کا ماننا ہے کہ نمک یا آٹے میں آیوڈین کی شمو لیت اِن تمام مسائل کا بہترین حل ہے، اِسکے علاوہ مچھلی کا زیادہ سے زیادہ استعمال بھی Iodine defficiencyمیں معاون ثابت ہوتا ہے ، دنیا بھر میں آیوڈین کی کمی پر قابو پانے کیلئے آیوڈین ملے نمک کا استعمال عام ہے، لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں آیوڈین ملے نمک کے حوالے سے کچھ ایسی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیںجس کے باعث آیوڈین ملے نمک کا استعمال بہت کم ہے اسکے علاوہ ہمارے ہاں آیوڈین ملا نمک عام نمک کے مقابلے میں قدرے مہنگا بھی ہے،پاکستان بھر میں گھریلو سطح پر آیوڈین ملے نمک کے استعمال کی شرح صرف17فیصد ہے،ڈاکٹر شبین ناز کا کہنا ہے کہ آیوڈین ملے نمک کے حوالے سے موجود غلط فہمیوں کا خاتمہ بے حد ضروری ہے:
بچوں میں آیوڈین کی کمی کے خاتمے اور انھیں ذہنی معذوری سے بچانے کیلئے مائیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔اس حوالے سے گھریلو خواتین کو اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہئیے خصوصاً سنی سنائے باتوں پر یقین کرنے کے بجائے آیوڈین ملے نمک کے حوالے سے ریسرچ کو سامنے رکھنا چاہئیے تبھی ہم اپنی آئندہ نسلوں کو ذہنی معذوری اور صحت کے دیگر مسائل سے بچا سکتے ہیں۔اس حوالے سے میڈیا پر آگہی مہم کے ساتھ ساتھ شہروں اور دیہاتوں میں علاقائی سطح پر Awareness Sessionکا انعقاد کیا جانا چاہئیے جہاںمختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ خصوصاً علماءحضرات آیوڈین ملے نمک کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں موجود بے بنیاد باتوں اور غلط فہمیوں کو دور کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *