صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے خواتین کو ہراساں کرنے کی حوصلہ شکنی کے لئے قانون سازی کی ہے اور اب عدلیہ میں خواتین ججوں کی تعیناتی بھی یقینی بنائی جا رہی ہے تا کہ وہ خود دیگر عورتوں کو امتیازی سلوک سے بچا سکیں،خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کوئی نئی بات نہیں۔خواتین ہمیشہ سے ہی ہر طرح سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنتی آرہی ہیں،صدر کی جانب سے خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے لئے خواتین ججوں کی تعیناتی کے اعلان پرعورت فاﺅنڈیشن کی مہناز رحمان اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں۔
:
عورت کے دکھ اور تکلیف کو ایک عورت ہی زےادہ بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے اور خواتین ججوں کی تعیناتی سے خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔اس حوالے سے مہناز رحمان کہتی ہیں۔
ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نور ناز آغا صدر زرداری کی خواتین ججوں کی تعیناتی کے اعلان کو سراہتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس اقدام سے خواتین کو انصاف کے حصول میں درپیش مشکلات سے نجات مل سکے گی۔
ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نور ناز آغا کے مطابق خواتین ججوں کی تعناتی اسی وقت مﺅثر ثابت ہو سکتی ہے جب خواتین کو اس حوالے سے بنیادی قانون سازی کاعلم ہوگا۔
صدر آصف علی زرداری کی جانب سے عدلیہ میں خواتین ججوں کی تعیناتی کے اعلان سے خواتین کے خلاف امتیازی سلوک میں کمی کی ایک امید پیدا ہو گئی ہے،لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ اعلان صرف اعلان کی حد تک باقی نہ رہے بلکہ اس پر فوری عملدر آمد بھی کیا جائے ،اور ساتھ ہی عام خواتین کو انصاف کے حصول کے لئے بنیادی رہنمائی اور آگاہی بھی فراہم کی جائے تا کہ اس ملک میں موجود ہر عورت تک انصاف کے ثمرات پہنچ سکیں۔