female journalists salary issue خواتین صحافی اور تنخواہ کے مسائل

چند روز قبل لاہور کے علاقے اسلام پورہ میں ایک مقامی اخبار کی خاتون کرائم رپورٹر نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی ،سیماب نامی خاتون صحافی اس مقامی اخبار میں چار ماہ سے ملازمت کر رہی تھیں لیکن انہیں تنخواہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے سیماب بہت پریشان تھیں ،کیونکہ گھر کی کفالت کی پوری ذمہ داری سیماب کے کاندھوں پر ہی تھی، اور تنخواہ نہ ملنے پر دل برداشتہ ہوکر سیماب نے یہ انتہائی قدم اٹھاےا۔تنخواہ وقت پر نہ ملنا صرف ایک اخبار کا مسئلہ نہیں بلکہ ایسے بہت سے صحافتی ادارے ہیں جہاں کے ملازمین کئی کئی ماہ تنخواہوں سے محروم رہتے ہیں۔سعدیہ بھی ایک معروف اخبار میں ملازمت کرتی ہیں،ان کو بھی ۳ ماہ بعد آج تنخواہ ملی ہے، سعدیہ کہتی ہیں کہ تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ اتنی پریشان تھیں کہ وہ بھی خودکشی کے بارے میں سوچنے لگ گئی تھیں۔

گونیلا گل ایک مقامی اخبار کی صحافی ہیں،گونیلا بھی تنخواہ نہ ملنے کے مسئلے کا بری طرح شکار ہیں،گونیلا موجودہ ملازمت سے قبل ایک اور اخبار میں ملامزت کر رہی تھیں لیکن بعض وجوہات کی بناءپر وہ اخبار بند کر دیا گےا ،جہاں سے گونیلا کو ساتھ ماہ کی تنخواہ کی ادائگی نہیں کی گئی اور نہ اب تک اس حوالے سے کوئی قدم اٹھاےا گےا ہے۔

عطیہ زیدی ایک معروف اخبار میں ملازمت کرتی ہیں،عطیہ کہتی ہیں کہ تمام چھوٹے اخبارات پر حکومت کو پابندی لگا دینی چاہئے۔

خواتین اگر گھر سے باہر ملازمت کے لئے نکلتی ہیں تو ایسا وہ انتہائی مجبوری کے عالم میں کرتی ہیں،بہت کم ایسی خواتین ہونگی جو شوقیہ ملازمت کرتی ہونگی،اکثریت بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہو کر اپنے گھر کے معاشی حالات کو سنبھالا دینے کے لئے ملازمت کرتی ہیں،خواتین صحافیوں کے ساتھ ساتھ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بھی پچھلے کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں مل رہی تھیں ،جس کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا اور عید سے قبل تنخواہیں جاری کرنے کا حکم دیا،اگر اسی طرح صحافتی اور دیگر اداروں میں خواتین کو بر وقت تنخواہیں ادا کی جائیں تو سیماب جیسی خواتین خودکشی پر کبھی مجبور نہ ہوں ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *