پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں آج فادرز ڈے یعنی عالمی یوم والد منایا جارہا ہے،جس کا مقصد بچے کیلئے والد کی محبت اور تربیت میں ان کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔فاردز ڈے کو منانے کا آغاز 19جون 1910ءمیں واشنگٹن میں ہوا۔ اسکا خیال ایک خاتون نے اس وقت پیش کیا جب وہ1909 ء میں ماﺅں کے عالمی دن کے موقع پر ایک خطاب سن رہی تھیں۔چونکہ اس خاتون کے والد کی پیدائش جون میں ہوئی تھی، اس لئے 19جون کو پہلا فادرز ڈے منایا۔1926ءمیں نیویارک سٹی میں قومی سطح پر ایک فادرز کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ اس دن کو 1956ءمیں امریکی کانگریس کی قرارداد کے ذریعے باقاعدہ طورپر تسلیم کرلیا گیا۔ 1972ءمیں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے قومی سطح پر فادرز ڈے منانے کیلئے جون کے تیسرے اتوار کا مستقل طورپر تعین کرلیا، جسکے بعد سے اس دن کو پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں جون کے تیسرے اتوار کو منایا جاتا ہے،جبکہ ایران، روس، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، برازیل، تائیوان، جنوبی کوریا اور ویتنام سمیت بعض ملکوںمیں یہ دن مختلف تاریخوں میں منایا جاتا ہے۔
یہ دن اپنے خاندانوں اور معاشرے کے لیے مجموعی طورپر والدکے کردار کوسراہنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ باپ بچوں کے لیے ایک باغبان کی حیثت رکھتا ہے جو سایہ بن کر اپنے بچوں کو زمانے کی پریشانیوں سے دور رکھ کر اسکی تعلیم و تربیت کرکے اسے ایک اچھا شہری بناتا ہے اور والد کے انہی احسانات کے بدلے بچے ان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے انکے ساتھ زندگی بھر ساتھ نبھانے کا وعدہ کرتے ہیں۔
لیکن ہمارے ملک میں ایسے والدین بھی ہیں جنہیں اس دن بھی توجہ کا مستحق نہیں سمجھا جاتا، اور انہیں بوڑھاپے میں گھر سے نکال دیا جاتا ہے یا ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک ہوتا ہے۔
مگر کئی بار صورتحال مختلف ہوجاتی ہے اور بچے اپنے والد کے خوف سے ذہنی و جسمانی طور پر دب کر رہ جاتے ہیں اور ان کی شخصیت مسخ ہوکر رہ جاتی ہے۔
تاہم اس دن یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ زندگی چلتی چلی جاتی ہے ، بہت سے رشتے بنتے بگڑتے ہیں، لیکن ماں باپ کا رشتہ انمول ہے جس کی قدر کے لئے ایک دن تو کیا، ایک عمر بھی کم ہے۔