حال ہی میں جاری کی گئی فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک رپورٹ کے مطابق رواں سال مارچ کے مہینے میں خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں بیشتر اضلاع میں خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کے حوالے سے FIRیعنی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ بھی نسبتا ًزیادہ درج ہوئی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہواہے تو دوسری جانب ایسے کیسزکو رپورٹ کروانے کے حوالے سے لوگوں کی آگہی میں بھی اضافہ ہوا ہے، اندرون سندھ میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے جب ہم نے عورت فاﺅنڈیشن کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر مہناز رحمٰن سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ اندرون سندھ میں ہونے والے زیادہ ترواقعات کی وجہ جبری شادی اور کاروکاری ہے:
فافین کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق خواتین کے ساتھ جنسی ز یادتی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے زیادہ ترواقعات گھوٹکی،شہداد کوٹ اور راجن پور میں پیش آئے ہیں جبکہ صرف 16اضلاع میںغیرت کے نام پر قتل کی24ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، اس حوالے سے مہناز رحمٰن کا کہنا ہے:
عورت فاﺅنڈیشن کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر مہناز رحمٰن کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات میں اضافے کی ایک اہم وجہ معاشی بد حالی بھی سمجھی جا سکتی ہے،تیزی سے بڑھتی مہنگائی اور اسکے ساتھ ساتھ اُسی رفتار سے بڑھتی بیروزگاری لوگوں میں فرسٹریشن کو جنم دے رہی ہے جسکا شکار بنتی ہیں کمزور خواتین ۔۔۔