(End of the Road for Pakistan’s Truck Artists)پاکستان میں دم توڑتا ٹرک آرٹ

پاکستان میں چلنے والے ٹرکوں پر انتہائی خوبصورت نقش و نگار بنے ہوتے ہیں اور وہ سڑکوں پر چلتی پھرتی پینٹنگز لگتے ہیں۔ پاکستان میں ٹرک آرٹ کی یہ روایت 1920ءکی دہائی سے چلی آرہی ہے اور خیبرپختونخواہ کو اس فن کی پیدائش کا مرکز مانا جاتا ہے۔مگر اب یہ خوبصورت فن اپنی موت آپ مررہا ہے.

65 سالہ غلام محمد پشاور میں مقیم ایک بہترین ٹرک آرٹسٹ سمجھے جاتے ہیں، وہ اس وقت کام کی تلاش کررہے ہیں۔اور وقت پشاور کی رنگ روڈ کے ارگرد موٹرسائیکل چلاتے ہوئے ٹرک ڈھونڈ رہے ہیں، جسکی سجاوٹ کا کام ہونا ہو۔

غلام محمد(male) “میرے چار بیٹے ہیں، جبکہ بیٹی مرچکی ہے۔ میری بیوی کو ذیابیطس اور ہیپاٹائیٹس جیسے امراض کا سامنا ہے اور کم آمدنی کے باعث میں اسکا مناسب علاج بھی نہیں کراپاتا”۔

غلام محمد اس وقت سپر وزیرستان ٹرک کمپنی کے احاطے میں کھڑے ہیں، یہ کام کی تلاش میں مصروف ڈرائیورز اور میکنیکس میں مقبول جگہ ہے۔ غلام محمد گزشتہ چار روز سے کسی ٹرک کو سجانے کا کام ڈھونڈ رہے ہیں، مگر اب یہ کام ان کیلئے مشکل ہوتا جارہا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اب زیادہ تر ٹریلرز باربرداری کا کام کرنے لگے ہیں، جن میں سامان کنٹینرز کے ذریعے جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس میں زیادہ سجاوٹ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔دوسری طرف عام ٹرک اب پشاور میں بہت کم آتے ہیں، کیونکہ ڈرائیورز اور مالکان کو بم حملوں اور اغوا برائے تاوان کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غلام محمد اپنے متعدد صارفین سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

غلام محمد(male) “میں تو اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مجھے خودکشی کرلینی چاہئے، میں بل، کرایہ اور دیگر اخراجات پورے نہیں کرپارہا، میرے پاس کام نہیں تو یہ خرچے کیسے پورے کروں۔ میرے بچوں کو پیسوں کی ضرورت ہے مگر میں انہیں دینے میں ناکام ہوچکا ہوں”۔

ایک ٹرک کی سجاوٹ میں دس سے پندرہ روز لگتے ہیں، جس پر دو ہزار سے تیس ہزار روپے تک کا خرچہ آتا ہے۔ 1980ءکی دہائی میں غلام محمد بہت زیادہ مصروف رہتے تھے اور ان کی روزانہ کی آمدنی ہی پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے کے درمیان تھی۔ ٹرک کے مالکان اپنی گاڑیوں کی سجاوٹ کیلئے غلام محمد کے فارغ ہونے کا انتظار ہفتوں ہنسی خوشی کرتے تھے۔ ہر ٹرک آرٹسٹ ایک خاص تصویر کا ماہر ہوتا ہے، غلام محمد کی یہ خاص تصویر وائٹ ہاﺅس ہے جس میں پر لگے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ قدرتی مناظر، پہاڑیاں، پھولوں کے ڈیزائن اور دیگر تصاویر وغیرہ بنانے میں بھی انہیں مہارت حاصل ہے۔غلام محمد کا کہنا ہے کہ وہ اب تک دو ہزار سے زائد ٹرکوں کو رنگ چکے ہیں، تاہم انتہاپسندی بڑھنے سے انہیں اپنے کام کی تیکنیک تبدیل کرنا پڑی ہے۔

غلام محمد(male) “مجھے انسانوں اور جانوروں کی تصاویر بناکر خوشی ہوتی تھی، مگر اب ایسا نہیں کیونکہ ایسا کرنا گناہ ہوتا ہے، اب میں خطاطی کرنا پسند کرتا ہوں، جبکہ مجھے پہاڑی مناظر، شاہراﺅں اور درختوں کی تصاویر بنا کر بھی مزہ آتا ہے۔ میرے جیسے فنکار انسانوں اور جانوروں کی تصاویر بناکر کافی رقم کمالیتے ہیں، مگر میں ان تصاویر کو بنانا اب گناہ سمجھتا ہوں”۔

موجودہ ٹیکنالوجی اور جدید رجحانات نے بھی اس کاروبار کو متاثر کیا ہے، ہزار گل بارہ ٹرکوں کے مالک ہیں، وہ 1980ءکی دہائی میں ٹرک آرٹ کے شیدائی تھے مگر اب نہیں۔

ہزار گل(male) “آخر میں اپنی رقم کیوں کسی ایسے گھوڑے کی تصویر پر خرچ کروں جسکے سر پر خاتون کا چہرہ لگا ہو اور اس کے پرنکلے ہوئے ہو؟ ہم نے تو حقیقی زندگی میں ایسی مخلوقات کبھی نہیں دیکھیں، جبکہ اب میرے موبائل فون میں میرے بچوں کی تصاویر موجود ہیں، اس لئے اب ٹرک پر انکی تصاویر بنوانا بھی بے کار ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے مجھے تو ٹرک آرٹ میں کسی قسم کی جدت دیکھنے میں نہیں آئی، ایک آرٹسٹ کو ٹرک سجانے کیلئے کئی ہفتے درکار ہوتے ہیں، کوئی ٹرک مالک ہفتوں تک اپنی آمدنی کے ذریعے کو محض سجاوٹ کیلئے روکنے کا بار نہیں اٹھاسکتا”۔

زیادہ تر ٹرک آرٹسٹوں نے اس فن کی باضابطہ تربیت حاصل نہیں کی، تاہم پشاور میں غلام محمد اب تک ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو اس فن کی تعلیم دے چکے ہیں۔34 سالہ امیر رحمن بھی ایسے ہی سابقہ طالبعلم ہیں، انھوں نے اپنے کام کو آج کی جدت سے باہم ملا دیا ہے، تاہم ان کیلئے بھی کام کی تلاش آسان نہیں۔

امیر رحمن(male) “دہشتگردی کیخلاف جنگ اور خودکش حملوں نے ہمارے کام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ زیادہ تر افراد کی ٹرک آرٹ میں دلچسپی ختم ہوچکی ہے، ہمیں ہفتے میں دو سے تین روز تک کام نہیں ملتا، جبکہ ماضی میں تو ہمیں رات کو بھی فرصت نہیں ملتی تھی۔ ہم روزانہ پانچ سے دس ہزار روپے کمالیتے تھے مگر اب ہماری آمدنی پانچ سو روپے بھی نہیں رہی”۔

غلام محمد کا کہنا ہے کہ حکومت گلوکاروں اور مصوروں کو ایوارڈز دیتی ہے مگر وہ ٹرک آرٹسٹوں کونظرانداز کردیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اب اپنے بچوں کو اس شعبے میں نہ لانیکا فیصلہ کرچکے ہیں۔

غلام محمد(male) “میں اپنے بچوں کو کبھی اس پیشے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دوں گا، کیونکہ اب اس فن کا مستقبل تاریک ہے۔ ہمیں کم سے کم رقم پر کام کرنا پڑتا ہے، شدید گرمی ہو یا سردی ہمیں کھلے آسمان تلے کام کرنا پڑتا ہے، اگر حکومت نے اس فن کی سرپرستی نہ کی تو آئندہ دس سے گیارہ برسوں کے دوران یہ دم توڑ دے گا”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *