صبا گل انجنیئرنگ کرنے کے باوجود فیشن مصنوعات کی کمپنی چلارہی ہیں، تاہم ان کا اصل مشن ہاتھوں سے ہینڈ بیگز تیار کرنے والی خواتین کو ترقی دلانا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
تیس سالہ سائرہ احمد اٹک کی بلس فیکٹری میں ہینڈ بیگز بنانے میں مصروف ہیں، اس فیکٹری میں پچاس سے زائد غریب گھرانوں کی خواتین و لڑکیوں کو ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔یہاں ہینڈ بیگز کیسااتھ پرس، اسکارف اور دیگر فیشن مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
اس فیکٹری کی روح رواں 35پینتیس سالہ صبا گل ہیں، اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اور کئی این جی اوز میں کام کرنے کے بعد انھوں نے کچھ مختلف کرنے کا فیصلہ کیا، فیشن کے میدان میں اپنی مہارت کو وہ غریب خواتین کی صلاحیتیں بڑھانے کیلئے استعمال کررہی ہیں۔
صباگل”فیشن انڈسٹری بڑے مسائل جیسے غربت وغیرہ پر قابو پانے کا منفرد پلیٹ فارم ہے، اگرچہ اس صنعت کو دنیا بھر میں سماجی اور ماحولیاتی اعتبار سے دوسری بدترین انڈسٹری قرار دیا جاتا ہے، تاہم میں نے اس کام کو ایک چیلنج کے طور پر لیا اور فیصلہ کیا کہ غریب خواتین کو تربیت دیکر ان سے فیشن مصنوعات تیار کرائی جائے”۔
صبا گل نے یہ فیکٹری کا آغاز 2010ءمیں کیا تھا، انھوں نے اس منصوبے کو اسلام آباد سے 92 کلومیٹر دور واقع شہر اٹک میں ہینڈ بیگز اور دستکاری مصنوعات کی تیاری کیساتھ شروع کیا۔
انھوں نے مقامی لڑکیوں اور خواتین کو بھرتی کیا، یہ خواتین اس سے قبل پندرہ گھنٹے تک قالین کی تیاری کا کام ایک ڈالر سے بھی کم روزانہ کے معاوضہ پر کرتی تھیں، چالیس کے قریب لڑکیوں نے صبا کے پروگرام میں شمولیت اختیار کی، جن کی عمریں چودہ سے بائیس تھی،صبا نے ان لڑکیوں کو فیشن مصنوعات کی تیاری کی ابتدائی تربیت دی۔
صباگل”صرف میں یہ کافی مشکل تھا، کہ کس طرح ان لڑکیوں اور خواتین کو تربیت دی جائے، کیونکہ ان میں سے بیشتر تو اپنے نام تک نہیں لکھ سکتی تھیں، غربت کے باعث انہیں کبھی اسکول جانے کا موقع نہیں ملا، لیکن جب میں نے ان سے بات چیت کی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ کام ان کے قالین تیار کرنے کے کام سے بہتر ہے”۔
اٹھارہ سالہ سلمیٰ عنایت اس پروگرام میں شمولیت اختیار کرنے والے اولین گروپ میں شامل تھی۔
سلمیٰ”اس سے قبل میرے خاندان کو دن میں دو بار کھانے کو نہیں ملتا تھا، مگر پھر صبا گل نے مجھے منتخب کرکے تربیت دی، اب میں بیگز، پرس، اسکارف اور دیگر مصنوعات پر دستکاری کرسکتی ہوں، مجھے اچھی آمدنی ہورہی ہے اور مجھے خاندان کیساتھ رہنے کا زیادہ وقت بھی مل رہا ہے”۔
ان خواتین کی آمدنی میں ساٹھ فیصد تک اضافہ ہوا ہے، اپنی اس نئی آمدنی کیساتھ 43 سالہ فرزانہ اپنے پانچ بچوں کا مستقبل روشن دیکھ رہی ہیں۔
فرزانہ”میں چاہتی ہوں کہ میرے بچے تعلیم یافتہ ہو اور دیگر افراد کی طرح اچھی زندگی گزاریں، میرے والد نے مجھے اسکول جانے کی اجازت
نہیں دی، مگر میرے بچے اسکول ضرور جائیں گے۔ میں ان کیلئے کما رہی ہوں اور میں اس کیلئے صباگل کی شکرگزار ہوں”۔
بلس ایک این جی او کی شکل میں شروع ہوئی، تاہم صباگل نے اسے منافع بخش ادارہ بنادیا، اب بیشتر خواتین مکمل تربیت حاصل کرچکی ہیں اور ایکسپورٹ کوالٹی مصنوعات تیار کررہی ہیں۔
صباگل”ان غریب خواتین کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنا ہی میرا سب سے بڑا انعام ہے، ہر سنگ میل پر اپنی اس ہمت پر خوش ہوتی ہوں جو میں نے ڈیڑھ سال قبل امریکہ میں ملازمت چھوڑ کر پاکستان منتقل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کی”۔
اس فیکٹری کے ہینڈبیگز عالمی مارکیٹ میں فروخت کئے جاتے ہیں، جس سے حاصل ہونیوالا منافع لڑکیوں کی تعلیم کیلئے خرچ ہوتا ہے۔
صباگل”یہ تربیت یافتہ لڑکیاں نہ صرف اپنی آمدنی بڑھا رہی ہیں بلکہ وہ اس کی مدد سے اپنی برادری میں سوشل انٹر پرائززبھی قائم کرسکتی ہیں، اس طرح وہ اور ان کے خاندان ترقی کرسکتے ہیں، جبکہ دیگر خواتین بھی اس سے متاثر ہوکر ترقی کیلئے آگے آسکتی ہیں”۔