پاکستان کے مختلف علاقوں میں خواتین کی بڑی تعدادجسمانی معذوری کے باوجود کسی نہ کسی ہنر سے وابستہ ہوکر اپنے روزگارکا وسیلہ کررہی ہے۔چار سدہ کی لیلیٰ بھی انھی خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی معذوری کو اپنی مجبوری نہیں بلکہ اپنی زندگی کا چیلنج بنا لیا ہے۔لیلیٰ سلائی کڑھائی کا کام جانتی ہے، اُسکی خواہش ہے کہ وہ اپنے کام کو مزید توسیع دیتے ہوئے ایک دستکاری سینٹر کھول سکے:
لیلیٰ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خاندان کی واحد کفیل ہے اور اسکی خواہش ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کو تمام تر ضروریات زندگی فراہم کرے۔لیلیٰ کا ماننا ہے کہ جسمانی معذوری کسی بھی انسان سے آگے بڑھنے کی خواہش اور محنت کی لگن نہیں چھین سکتی :
لیلیٰ جیسی کئی خواتین ہیںجو کسی نہ کسی ہنر سے وابستہ ہو کر اپنے خاندان کی کفالت کر رہی ہیں اور دنیا کے سامنے مثال پیش کر رہی ہیں کہ معذور افراد بھی دیگر لوگوں کی طرح زندگی کے چیلنجز کو قبول کر سکتے ہیں۔معذوری کا شکار خواتین کو حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے تاکہ یہ خواتین کم سے کم وسائل میںاپنے اور اپنے خاندان کی روزی روٹی کاوسیلہ کرسکیں۔