کچھ عرصے سے پاکستان بھر میںخصوصاً کراچی میں ڈینگی بخار کی خبریں پڑھنے اور سننے میں آرہی ہیں۔ ایک مخصوص قسم کے مچھرسے پھیلنے والا یہ مرض عام طور گرم علاقوں میں دیکھنے میں آتاہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر سال پانچ کروڑ افراد اس مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں، جن میںسے پندرہ ہزار سے زائد ہلاک ہوجاتے ہیں۔
دنیا کے ایک سو کے قریب ممالک میں ڈینگی وائرس پھیلانے والے اڑتیس اقسام کے مچھر ہیں جن میں سے پاکستان میںصرف ایک قسم کا مچھر پایا جاتا ہے۔ڈینگی بخار کا باعث بننے والے مچھرگندے جوہڑوں میں نہیں بلکہ بارش کے صاف پانی، گھریلو واٹرٹینک کے آس پاس،صاف پانی کے بھرے ہوئے برتنوں اور گلدانوں اور گملوں وغیرہ میں جنم لیتے ہیں،جو گھروں میں عام طور پر سجاوٹ کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ڈاکٹر شکیل ملک کراچی میں Dengue Surveillance Cellکے انچارج ہیں۔انکا کہنا ہے کہ زیادہ آبادی والے شہروں میں یہ بیماری زیادہ پھیلتی ہے۔
یہ مچھر انسانوںکو طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت کاٹتے ہیں۔ڈینگی بڑا خطر ناک بخار ہے اس کے مابعد اثرات بھی ہیں۔ اس بخار کا علم تین سے سات دن کے اندر ہو تا ہے۔ عام سے نزلہ بخار کے ساتھ شروع ہونے والا بخار شدید سر درد ، پٹھوں میں درداور جسم کے جوڑ جوڑ کو جکڑ کر انسان کو بالکل بے بس کر دیتا ہے۔ جسم کے اوپری حصوں پر سرخ نشان ظاہر ہو تے ہیں۔نوعیت شدید ہو جائے تو ناک منہ سے خون بھی جاری ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ مخصوص حالات میں پیدا ہونے والا انتہائی اہم متعدی وائرس بخار ہے۔ڈینگی وائرس بخار کی علاما ت شروع میں اس طرح ہو تی ہیں۔تیز بخار، سر میں شدید درد، آنکھوںمیں شدید درد،تمام جسم ، ہڈیوں اور گوشت یہاں تک کہ جوڑ جوڑ میں درد ،بھوک کا مر جانا اور متلی ہوناوغیرہ۔
ڈاکٹر ناصرجاوید شیخ ای ڈی او ہیلتھ کراچی ہیں،وہ اس حوالے سے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کی جانب سے عوام الناس میں آگہی مہم کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
ڈینگی وائرس سے سارا ملک خوف کا شکار ہے۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ یہ بیماری ابھی صر ف کچھ شہروں تک محدود ہے لیکن دیگرشہروں اورمضافاتی علاقوں میں ڈینگی بخار پھیلنے کا بھی شدید خطرہ ہے۔پاکستان میں پچھلے سال پانچ ہزار سے زائد کیسیز سامنے آئے۔اقوام متحدہ کے مطابق 2006ءسے 2009ءکے دوران پاکستان میں ڈینگی کے 3242مصدقہ کیس ریکارڈ ہوئے، جبکہ 74افراد اس موذی مرض کے باعث جاں بحق ہوگئے۔سرکاری ذرائع کے مطابق صرف کراچی میں رواں سال کے دوران ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 700 سے تجاوز کرچکی ہے اور اس وقت بھی شہرکے مختلف اسپتالوں میں اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد 90کے قریب ہے۔صرف ستمبرمیں کراچی میں 5افراد ڈینگی بخار کا شکا ر ہوکر ہلاک ہوچکے ہیں، مگر غیرسرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں سال کے دوران ڈینگی بخار سے دوہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نجی اور سرکاری ہسپتالوں کو سختی سے یہ ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ میڈیا کو اس سلسلے میں براہ راست کوئی معلومات فراہم نہ کریں بلکہ ڈینگی سیل خود فراہم کریگا۔کراچی جیسے بڑے شہر میں اس وقت حکومت کی جانب سے صرف دوبڑے سرکاری اسپتالوں میں ڈینگی کے ٹیسٹ کیلئے مرکز قائم کئے گئے ہیں۔ ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ ٓافیسر ہیلتھ کراچی ،ڈاکٹر ناصرجاوید شیخ نے بتایا۔
وزیراعلیٰ پنجاب میاںشہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر صوبہ پنجاب میں اس مرض سے بچاو¿ کے موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں،تاہم دیگر صوبوں اوروفاقی وزارت صحت نے تاحال اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا۔صوبہ سندھ میں بھی اب اس حوالے سے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ Dengue Surveillance Cellکے انچارج ڈاکٹر شکیل ملک اس بارے میں بتارہے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے ملک میں مرکزی ، صوبائی اور ضلعی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ زیادہ تندہی کے ساتھ اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں تا کہ عوام الناس کو ڈینگی جیسی خطرناک بیماری سے بچایا جا سکے ، جبکہ عوامی سطح پر آگاہی مہم کا بھی آغاز کیا جائے تاکہ لوگ خود بھی مچھروں کی افزائش روکنے کے لئے مچھر مار سپر ے کرنے کے علاوہ گھروں کی چھتوں، ٹوٹے پھوٹے برتنوں اور پرانے ٹائروں اور گملوں وغیرہ میں پانی نہ کھڑا ہونے دیں جو مچھروں کی افزائش کا سبب بنتا ہے۔
