پاکستانی انتظامیہ نے وادی سوات میں ڈینگی کی وباءمیں شدت کے بعد ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی ہے، اب تک چھ ہزار سے زائد افراد اس بیماری کا شکار ہوچکے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
روہیب خان کی اہلیہ کے جنازے پر لوگ سرگوشیاں کررہے ہیں کہ وہ بہت جلد دوبارہ شادی کرلے گا کیونکہ ابھی وہ جوان ہے۔
روہیب کی بیوی ڈینگی کے باعث انتقال کرگئی ہے۔
روہیب”طویل جدوجہد کے بعد ہمیں ہسپتال میں ایک بستر ملا، مگر وہ بھی فٹ پاتھ پر تھا، میں نے اپنی بیوی کے علاج کیلئے ڈاکٹر ڈھونڈنے کیلئے کافی کوشش کی، ہم اسے دوسرے ہسپتال بھی لیکر گئے اور میرا خیال تھا کہ اس کا علاج ہوجائے گا مگر نصف شب کو اس کا انتقال ہوگیا”۔
روہیب کی دوبیٹیاں ہیں پانچ سالہ عافیہی اور چودہ ماہ کی ہدیٰ، ہدیٰ کو بھی ڈینگی بخار ہے۔
ہدیٰ گھر سے باہر نکلنے پر رو رہی ہے، جبکہ عافیہ گھر میں ہر وقت اپنے باپ کی گود میں چڑھی رہتی ہے۔
روہیب”بیوی کو کھونا بہت بڑا نقصان ہے مگر میرا ماننا ہے اس معاملے میں اللہ کی مرضی کے سامنے انسان بے بس ہے۔ طبی امداد حاصل کرنا صرف خود کو مطمئن کرنے کیلئے ہوتا ہے”۔
امجد علی برہان خیل روہیب کا کزن ہے، وہ بھی ڈینگی کے مرض میں مبتلا رہ چکا ہے۔
امجد”ہم روزانہ متعدد گناہ کرتے ہیں اور گناہوں کی دلدل میں ڈوبے ہوئے ہیں، یہاں کوئی انصاف نہیں اور ہر کوئی دوسرے پر ظلم کررہا ہے، اس لئے اللہ نے ڈینگی کی شکل میں اپنا عذاب بھیجا ہے”۔
یہ یہاں کی اکثریتی آبادی کا نطریہ ہے۔
تاہم حکام اور ماہرین طب ٹائروں کی تجارت کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، ان کے خیال میں ڈینگی مچھر کا لاروہ لاہور سے ان پرانے ٹائروں کے ذریعے سوات پہنچا۔
وادی سوات میں جگہ جگہ مچھروں کے خاتمے کیلئے اسپرے کیا جارہا ہے۔
کوثر اور ان کے شوہر دونوں کو ڈینگی بخار ہوگیا اور وہ ہسپتال میں داخل ہوئے۔
کوثر نواز”میرے تین بچے ہیں اور اللہ مجھے ان بچوں کی کفالت کا موقع دیں کیونکہ کوئی اگر میں مرگئی تو کوئی اور ان کی پرورش نہیں کرے گا”۔
مگر 46 سالہ رحمت بی بی زیادہ خوش قسمت نہیں۔
ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ رحمت بی بی کو ہسپتال لانے میں بہت دیر ہوگئی ہے۔
اسپتالوں میں ستر فیصد مریض مرد ہیں اور انکا کہنا ہے کہ خواتین اس وباءسے زیادہ متاثر نہیں ہوئیں کیونکہ وہ اپنا جسم پوری طرح ڈھانپتی ہیں، مگر ایک خیال یہ بھی ہے کہ خواتین کو ہسپتال جاکر علاج کرانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔یاسر علی سوات کے ایک ہوٹل کے منیجر ہیں، وہ گزشتہ دنوں ہی ہسپتال سے فاغ ہوئے ہیں۔
یاسر علی”میرا پورا خاندان ڈینگی کا شکار ہوا، مگر ہم اپنی خواتین کو ہسپتال لیکر نہیں گئے، خواتین کو بچوں کو کھلانا ہوتا ہے اس لئے ان کا ہسپتالوں کی بجائے گھروں میں ہی علاج زیادہ بہتر ہے”۔
سوال”اگر گھروں میں زیادہ بہتر علاج ہوتا ہے تو پھر آپ نے ہسپتال جاکر اپنا علاج کیوں کرایا؟
یاسر”میں اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا، میں اس سوال کا جواب نہیں دوں گا”۔
طبی حکام کا کہنا ہے کہ جب موسم ٹھنڈا ہوگا تو ڈینگی مچھروں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ پروفیسر ڈاکٹر تاج محمد خان سیدو ٹیچنگ ہسپتال کے سربراہ ہیں۔
تاج”ڈینگی کا باعث بننے والے مچھر 16 ڈگری سے کم درجہ حرارت میں زندہ نہیں رہ پاتے، تو پندرہ اکتوبر کے بعد صورتحال بہتر ہونا شروع ہوجائے گی کیونکہ درجہ حرارت جو گرنا شروع ہوجائے گا”۔