پاکستان چھ سال بعد یورپی یونین کو سی فوڈ کی برآمد دوبارہ شروع کررہا ہے، اس سے قبل صحت کے ناقص معیار پر یورپی یونین نے پاکستانی مصنوعات پر پابندی عائد کردی تھی، مگر اب ماہی گیری کیلئے حالات تبدیل ہوگئے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
کراچی فش ہاربر کے قریبی علاقے ابراہیم حیدری میں بارہ سالہ علی محمد علی الصبح قریبی تیمر جنگلات میں جانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
علی محمد”ہم چھوٹے سوراخوں میں چھپے کیکڑوں کا شکار آئرن راڈ کی مدد سے کرتے ہیں، ہم انہیں مختلف قیمتوں میں فروخت کرتے ہیں، کچھ دس روپے میں بک جاتے ہین، جبکہ کچھ کے بدلے ہمیں پچیس سے تیس روپے بھی مل جاتے ہیں، اب تک سب سے مہنگا دو ہزار کا فروخت ہوا ہے”۔
اس علاقے کے ماہی مچھلیوں کی کثرت کے باعث عام طور پر کیکڑوں کا شکار نہیں کرتے تھے مگر پانچ برس قبلحالات تبدیل ہوگئے اور اس علاقے میں صنعتوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔
اگست کے آغاز میں کراچی ساحلی علاقہ اچانک مردہ مچھلیوں سے بھرگیا، ٹنوں کی تعداد میں موجود ان مچھلیوں کی صفائی کافی مشکل سے ہوئی، پچیس سالہ ماہی گیر نذیر احمد بھی صفائی کرنے والی ٹیم میں شامل تھے۔
نذیر”لوگوں نے ساحلوں سے مچھلیاں جمع کی تاہم انہیں فروخت نہیں کیا، تمام مردہ مچھلیوں کو کچرے میں پھینک دیا گیا، یہ بہت افسوسناک لمحہ تھا کیونکہ یہ ہمارے روزگار کا ذریعہ ہے”۔
اس واقعے کی وجہ پندرہ ہزار صنعتیں اور کراچی شہر کے دو کروڑ کے قریب رہائشی بنے، مقامی انتطامیہ کے مطابق شہر میں بارہ ہزار ٹن گھریلو و صنعتی فضلہ روزانہ پیدا ہوتا ہے،محمد معظم خان بحری حیات کے ماہر ہیں۔
خان”یہاں تین بڑے صنعتی علاقے ہیں، جبکہ رہائشی اور دیگر علاقوں میں بھی صنعتیں بڑی تعداد میں موجود ہیں،ان میں سے نوے فیصد صنعتیں میں کوئی ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں، جو کہ سمندری آلودگی کی بڑی وجہ ہے، میرا مطلب ہے کہ نوے فیصد سمندری حیات کراچی بندرگاہ اور دیگر کریکوں سے ختم ہوچکی ہے”۔
انیس سو ستانوے میں پاکستان نے ماحولیاتی تحفط کیلئے ایک نیا قانون متعارف کرایا تھا جس کے تحت ہر صنعت کو اپنا فضلہ ٹھکانے والا پلانٹ لگانے کا پابندی بنایا گیا تھا، مگر اب تک صرف ایک ہی پلانٹ نصب کیا جاسکا ہے۔
خان”کچھ کارخانے تیل، گریس، پکانے کا تیل، کیمیکل، بھاری معدنیات اور کیڑے مار ادویات خارج کرتے ہیں، یہ فہرست بنانا تو مشکل ہے کہ کون سی صنعت کتنی آلودگی خارج کرتی ہے،مگر یہ کافی سنگین مسئلہ ہے، ان میں سے بیشتر آلودگی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے”۔
چھ برس قتل یورپی یونین نے فش ہاربر پر صفائی کی ناقص صورتحال پر پاکستان سے مچھلی درآمد کرنے پر پابندی عائد کردی تھی، جس کے باعث پاکستان کو سالانہ تین سو ملین ڈالر کا نقصان ہورہا ہے، جبکہ ہزاروں ماہی گیروں کا روزگار متاثر ہوا۔ طالب کچھی پاکستان فشرفوک فورم کے جنرل سیکرٹری ہیں۔
کچھی”ماہی گیر سالانہ حکومت کو زرمبادلہ کی مد میں دس لاکھ ڈالر سے زائد آمدنی دیتے ہیں، مگر حکومت ہمیں اس کے بدلے کسی قسم کی سہولیات نہیں دیتی، یہاں بچوں کیلئے کوئی جدید ہسپتال یا اسکول نہیں، رہائشی بستیاں بنیادی سہولیات جیسے پینے کے صاف پانی، مناسب نکاسی آب کے نظام وغیرہ سے محروم ہیں۔ بڑھتی ہوئی آلودگی ہمارے ساتھ ساتھ معیشت کی بھی قاتل ثابت ہورہی ہے”۔
سپریم کورٹ نے حکومت کو سمندری آلودگی کی شرح کم کرنے کیلئے اقدامات کا حکم دیا، تاہم سندھ انوائرمینٹپروٹیکشن ایجینسی کے عہدیدار محمد یحییٰ کا کہنا ہے کہ یہ کام ہم تنہا نہیں کرسکتے۔
محمد یحییٰ”یہ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں، ہم سب کو ملکر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے اور عدالتی حکم کی تعمیل کرنا ہوگی۔ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اس عمل میں شامل کرنا ہوگا اور جلد از جلد بہتر اقدامات کرنا ہوں گے، یہ قوم کے مفاد میں ہے”۔
ماہرین جیسے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے رب نواز کے مطابق آلودگی سے نمتنے کیلئے حقیقی اقدامات کئے بغیر پاکستنای مصنوعات کی برآمد پر دوبارہ پابندی کا خطرہ موجود ہے۔
رب نواز”یہ پہلا واقعہ نہیں، ماضی میں بھی ایسا ہوچکا ہے، مگر اب گزشتہ برسوں کے دوران پکڑی جانے والی مچھلیوں کا معائنہ کریں تو وہ آلودہ ثابت ہوگی، اور ان کو دیکھ کر یورپی یونین دوبارہ پابندی عائد کرسکتی ہے”۔
سمندر میں واپس آتے ہیں علی محمد ابھی گھر واپس آئے ہیں، ماضی میں اس کے والد روزانہ سو ڈالر کمالیتے تھے، مگر اب کیکڑوں کا شکار کرکے پانچ دن میں بھی اتنی رقم نہیں کما پاتا۔