(Corruption scams plague Indian defence force) کرپشن اسکینڈلز سے بھارتی افواج کا کردار متاثر
بھارت اس وقت اسلحہ درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے، تاہم مسلح افواج میں اسلحے کی خریداری کے دوران کرپشن اسکینڈلز سامنے آرہے ہیں۔
بھارتی آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ اپریل کے مہینے میں یہ کہہ کر بھارتی عوام کو چونکا دیا تھا کہ انہیں کروڑوں ڈالر رشوت کی پیشکش کی گئی تھی، تاکہ وہ ناقص معیار کی چھ سو گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دیدیں۔ اس انکشاف نے وزارت دفاع کو ہلا کر رکھا دیا تھا۔اس کے بعد حکومت نے مجبور ہوکر تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا، تاہم اسے ناکافی سمجھتے ہوئے گزشتہ دنوں وزیر دفاع اے کے انتھونی نے بھارتی فضائیہ کیلئے اٹلی سے 788 ملین ڈالر میں خریدے گئے بارہ ہیلی کاپٹرز میں کرپشن کے الزامات پر نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔بھارت میں برسوں سے دفاعی معاہدوں کیلئے مڈل مین کے کردار پر تند و تیز بحث جاری ہے اور اب نئے انکشافات نے حکومت پر لرزہ طاری کردیا ہے۔ Josy Joseph ایک دفاعی تجزیہ کار ہیں۔
male) Josy Joseph) “بھارت اس وقت اپنی دفاعی ضروریات کا 70 فیصد سامان بیرون ملک سے منگوا رہا ہے، جبکہ صرف تیس فیصد سامان ملک میں تیار کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلحہ ڈیلرز ہمارے ملک میں خوشحال ہورہے ہیں، جس کی وجہ بھارت کا اسلحے کیلئے دیگر ممالک پر انحصار کرنا ہے”۔
ایجنٹوں کے ذریعے خریداری کے باعث متعدد بھارتی حکومتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے،اس حوالے سے پچیس برس قبل سامنے آنے والاBofors توپوں کا اسکینڈل قابل ذکر ہے۔ اس کے بعد سے انتظامیہ کی جانب سے اسلحے کی خریداری کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔Saurabh Joshi ایک دفاعی جریدے StratPost کے ایڈیٹر ہیں۔انکا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
جوشی(male) “ہمارے حکام کچھ بھی نہیں کررہے، درحقیقت اسلحے کی خریداری کمیشن ایجنٹوں کے ذریعے ہورہی ہے، اس عمل کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی ہے، اور کچھ برس قبل وزارت دفاع نے ان ایجنٹوں کی رجسٹریشن کی اسکیم شروع کی۔ تاہم دفاعی خریداری کے عمل پر مکمل نظرثانی کی ضرورت ہے”۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے فوج کو مضبوط بنانے کیلئے آئندہ دہائی کے دوران بھی بھاری اخراجات کئے جائیں گے، حکومت ملکی دفاع کو جدید بنانے کے منصوبوں کو ہر صورت میں مکمل کرنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے آئندہ پانچ برس کے دوران فوج کو بہتر بنانے کیلئے پچاس ارب ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں بھی حکومت نے دفاعی اخراجات میں اٹھارہ فیصد اضافہ کیا ہے، تاہم کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اضافے سے حکومت نے بند کمروں میں ہونیوالے معاہدوں کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ Sanjay Srivastav ایک ماہر سماجیات ہیں۔
male) Sanjay Srivastav) “بھارت میں دفاعی شعبے کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، اس میں بدعنوانیوں کا مطلب ملک کے ساتھ زیادتی ہے۔حکومت اب شفافئت پر توجہ دے رہی ہے، کیونکہ دفاعی شعبے میں خرابیوں کا اثر سول معاشرے پر بھی پڑتا ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ایماندار دفاعی شعبے کو ترویج دیں”۔
تاہم صورتحال یہ ہے کہ آغازمیں ٹینڈر نوٹس کی تیاری سے لیکر کمپنی یا ملک کے انتخاب تک ہر مرحلے میں اسلحہ ڈیلر حکومتی طریقہ کار کو اپنے حق میں کرنے کیلئے سرگرم رہتے ہیں۔جوزف کا ماننا ہے کہ اگر اس وقت اسلحہ ڈیلرز کا کردار ختم نہ کیا گیا تو انہیں قانونی حیثیت حاصل ہوجائے گی۔
جوزف(male) “بھارت میں مڈل مین کے حوالے سے کافی نرم پالیسی موجود ہے، تاہم بھارت کو مقامی کمپنیوں کی مدد سے اسلحے کی خریداری کیلئے مڈل مین کے کردار کو قانون کے دائرے میں لانا چاہئے، جیسا کہ دوسرے ممالک میں کیا گیا ہے”۔
سو ربھ جو شی بھی اس با ت سے اتفا ق کرتے ہیں۔
جوشی(male) “درحقیقت اس صنعت کا انحصار ہی کمیشن ایجنٹوں پر ہے، جب تک آپ کمیشن ایجنٹس کو ریگولیٹ کرنے کا نظام تشکیل نہیں دے دیتے، اس وقت تک اس طرح کے اسکینڈلز سامنے آتے رہیں گے”۔