Chandi Ghar چاندی گھر

    اقوام متحدہ نے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ پاکستان میں سیلاب زدگان کی بھرپور امداد کی جائے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ متاثرین کی ا مداد کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ لیکن سائبان کے منتظر لاکھوں افراد تاحال کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جن کیلئے دیگر مسائل کیساتھ ساتھ بدلتے ہوئے موسم سے لڑنا ایک نیا مسئلہ ہے۔تاہم کراچی کی رہائشی ایک خاتون نے اس مسئلے کا آسان اور فوری حل تلاش کرلیا ہے۔

یہ آوازیں اس شیٹ کی ہیں جس میں روزمرہ ضرورت کی اشیاءپیک کی جاتی ہیں۔ ہم عام زندگی میں اسے کوئی اہمیت دیئے بغیر کوڑے کرکٹ کی نذر کر دیتے ہیں۔ لیکن 55سالہ نرگس لطیف اسے چاندی کہتی ہیں۔ وہ ایک غیر سرکاری تنظیم گلبہاﺅ کو چلارہی ہیں جو مختلف قسم کے فضلے کو ری سائیکل کرکے عام استعمال کی اشیاءبناتی ہے۔نرگس کہتی ہیں کہ انہوںنے صنعتوں سے پیدا ہونےوالے خاص قسم کے فضلے کو استعمال کرکے ایک ایسا گھر تیار کیا ہے جو سیلاب متاثرین کیلئے انتہائی مفید ہوسکتاہے، انہوں نے اسے چاندی گھرکا نام دیا ہے۔

وہ اس چاندی گھر کی بناوٹ میں استعمال ہونےوالے سامان کے بارے میں بتاتی ہیں۔

نرگس کہتی ہیں کہ یہ گھر سیلاب زدہ افراد کو دیئے جانےوالے خیموں کے مقابلے میں زیادہ دیرپا اور آرام دہ ہے۔

گلبہاﺅ تنظیم نے اسی طرح کے گھرکا ایک ماڈل رزاق آباد میں واقع متاثرین کے کیمپ میں بھی لگایا۔ نرگس کے مطابق چاندی گھر کی بڑی خوبی اسکا موسمی اثرات سے محفوظ ہونا بھی ہے۔
لیکن انتظامیہ حسب توقع اس سستے اوردیرپا گھرکی افادیت سے لاعلم ہے۔رزاق آباد ریلیف کیمپ کے اسسٹنٹ انچارج احمد میمن سے جب اس چاندی گھرکی افادیت کے بارے میں پوچھاگیا تو انہوںنے لاعلمی کا اظہار کیا۔

حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی نہ ملنا کوئی نئی نہیں بات نہیں ، تاہم نرگس کا یہ چاندی گھر دنیا کی نظروں میں ضرور آچکا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل ایک امریکی غیرسرکاری فلاحی ادارے کلنٹن فاﺅنڈیشن کے ایک وفد نے نرگس سے خصوصی ملاقات کی اور انکے کام کو سراہا۔
البتہ میڈیا نے اس جانب قدم ضرور بڑھایا ہے اور ایک مقامی ٹی وی چینل نے اپنے خصوصی پروگرام ”کرو ممکن “ میں نرگس کے کام کو اجاگر کیا۔اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ایوان صنعت و تجارت برائے خواتین ،سیلاب متاثرین کیلئے چاندی گھرخریدنے پر غور کررہا ہے۔کوکب ایوان صنعت و تجارت برائے خواتین کی رکن ہیں۔
لیکن نرگس گلہ کرتی ہیںکہ انکی سالوں کی محنت کومعاشرہ پہچا ن نہیں پارہاہے۔
ایوان صنعت و تجارت برائے خواتین کی رکن کوکب موجودہ حالات کو چاندی گھر کو استعمال میں لانے کاسنہری موقع قرار دیتی ہیں۔
جبکہ نرگس لطیف نے بین الاقوامی امدادی اداروں کومشورہ دیاہے کہ وہ بھی اس ایجاد سے فائدہ اٹھائیں۔

سائبان سستا ہو یا معیاری، بے گھر افراد کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ان حالات میں کھلے آسمان تلے سرچھپانے کی جگہ مل جانا ان کیلئے کسی جنت سے کم نہیں ہوگا۔ نرگس لطیف کا یہ چاندی گھر اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کافی ثابت ہوسکتا ہے،جس پر متعلقہ حکام کو بھی سوچنا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *