گھریلو و معاشرتی سطح پر اہل خانہ اور عزیز و اقارب کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارنے والی خواتین ۔۔۔سلاخوں کے پیچھے کیسی زندگی گزار رہی ہیں؟ اس کا انحصار کافی حد تک جیل کے ماحول ، عملے کے رویے اور محکمہ جیل کی جا نب سے کئے گئے اقدامات پر ہے۔
اس سلسلے میں ہم نے سینٹرل جیل برائے خواتین کی سپرنٹنڈنٹ شیبا شاہ سے دریافت کیا کہ جیلوں میں قید خواتین کو کیا سہولیات فراہم کی جاتی ہیں:
1) خواتین قیدیوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سینٹرل جیل برائے خواتین میں کیا انتظامات کئے جاتے ہیں؟
2) خواتین قیدیوں کو جسمانی اور نفسیاتی علاج کیلئے کیا سہولیات فراہم کی جاتی ہیں؟
3) خواتین قیدیوں کیلئے اس نوعیت کی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے ، جو جیل سے رہائی کے بعد اُنکے لئے معاون ثابت ہوں؟
4) جیلوں کا ماحول مجرمانہ سرگرمیوں کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے، اسکی روک تھام کیلئے کیا اقدامات کئے جاتے ہیں؟
5) خواتین قیدیوں کیلئے یہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے کہ وہ جیل سے نکلنے کے بعد اپنی زندگی دوبارہ سے شروع کر سکیں،اس سلسلے میں محکمہ جیل کی جانب سے کیا اقدامات کئے جاتے ہیں؟
6) ہمارے ہاں مقدمات سالوں تک التواءکا شکار رہتے ہیں ، جیلوں میں قید خواتین اس دوران خاصی اذیت ناک صوتحال کا سامنا کرتی ہیں، آپ اس بارے میں کیا کہیں گی؟
7) جن خواتین قیدیوں کے ساتھ اُن کے بچے بھی ہیں یا وہ خواتین جن کے ہاں ولادت متوقع ہو ، اُن کیلئے کیا انتظامات کئے جاتے ہیں؟
سینٹرل جیل برائے خواتین میںکئی قیدی ایسی بھی ہیں جن کے مقدمات سالوں سے زیر سماعت ہیں ایسی خواتین قیدیوں کیلئے اُنکی بقیہ زندگی ایک سوالیہ نشان ہے کہ انھیں رہائی مل سکے گی یا وہ عمر بھر اسی چار دیواری میں قید رہیں گی،
خواتین قیدیوں کو اس نوعیت کی ٹریننگ فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے جو نہ صرف رہائی کے بعد انکے لئے معاون ثابت ہو بلکہ دوران قید خواتین کو مجرمانہ اور منفی نوعیت کی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے میں بھی مثبت کردار ادا کر سکے۔
