Central Jail For Women خواتین قیدیو ں کیلئے آ ئی ٹی پروگرا م

دنیا بھر میں جیلوں کے حوالے سے خاصا منفی تاثر پایا جاتا ہے ۔پاکستان کی نواحی جیلوں میں کئی سو خواتین قید ہیںان میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جن کے مقد مات سالوں سے التواءکا شکار ہیں اور وہ بھی جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اُنکا جرم ہے کیا۔۔۔کراچی سینٹرل جیل برائے خواتین میں قیدیوں کو ووکیشنل کورسز بھی کروائے جاتے ہیں جن کا مقصد نہ صرف خواتین قیدیو ں کی اصلاح ہے بلکہ یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، فائن آرٹس اور دیگر جدید علوم سیکھ کر یہ خواتین دوران قید اور رہا ہونے کے بعد اپنی زندگی مثبت طور پر شروع کر سکتی ہیں۔ حال ہی میں الخدمت ویلفیئر سوسائٹی کراچی اورویمن ایڈ ٹرسٹ کے اشتراک سے کمپیوٹر کورس کامیابی سے مکمل کرنے والی10 خواتین قیدیوں میں سرٹیفکیٹ تقسیم کئے گئے اس موقع پرسینٹرل جیل میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میںقائم مقام اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا،وزیر قانون و جیل خانہ جات ،محمد ایاز سومروخواتین جیل کی سپرنٹنڈنٹ شیبا شاہ نے شرکت کی ، اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شیبا شاہ نے ہمیں بتایا:
خواتین جیلوں میں ٹریننگ کورسز کا مقصد نہ صرف خواتین میں شعور و آگہی کو فروغ دینا ہے بلکہ انہی جیلوں میںقید اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند خواتین کی صلاحیتوں کو مثبت طور پر استعمال کرنا بھی ہے ۔خواتین جیل سپرنٹنڈنٹ شیبا شاہ کا کہنا ہے کہ نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ بلکہ ان پڑھ خواتین قیدی بھی بے حد شوق سے اس طرح کی ٹریننگ لیتی ہیں ، اسکے علاوہ کم پڑھی لکھی خواتین سندھ بورڈ کے تحت میٹرک ، انٹر اور گریجویشن کے امتحانات بھی دے رہی ہیں، شیبا شاہ کا کہنا ہے کہ خواتین قیدیوں کو دیے جانے والے ٹریننگ سرٹیفکیٹس میں متعلقہ ٹیکنیکل اداروں کا حوالہ موجود ہے جو جیل سے نکلنے کے بعد روزگار کے حصول میںانکے لئے معاون ثابت ہو سکتا ہے:
اس تقریب میں شریک قائم مقام اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضاکا کہنا ہے کہ جیلوںمیں مجرمانہ سرگرمیوں کے فروغ کے بجائے اس نوعیت کے ووکیشنل کورسز کروائے جانے چاہئیں اسکے علاوہ وزیر قانون و جیل خانہ جات محمد ایاز سومرونے کمپیوٹر کورس مکمل کرنے والی خواتین قیدیوں کی سز ا میں بھی کمی کا اعلان کیا، اس حوالے سے شیبا شاہ نے ہمیں بتایا :
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اس نوعیت کے ووکیشنل کورسز کرنے والی قیدی دیگر خواتین قیدیوں کو بھی تعلیم اور ہنر سکھا سکتی ہیں۔اس طرح جیلوں میں رہتے ہوئے یہ خواتین آمدنی کا وسیلہ پیدا کر سکتی ہیں اور جیل سے نکلنے کے بعد اپنی زندگی پھر سے شروع کر سکتی ہیں۔سینٹرل جیل میں موجود کئی خواتین قیدیو ں کا کہنا ہے کہ یہاں آنے کے بعد اُنکی برداشت اور معاملہ فہمی میں اضافہ ہوا ہے اور زندگی کے بارے میں انکے نظریات میں خاصی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔سینٹرل جیل برائے خواتین میںقیدیوں کو کمپیوٹر کی ٹریننگ دینے والی زینب منیر کا کہنا ہے کہ آئی ٹی کے شارٹ اور ڈپلومہ کورسز میں خواتین قیدیوں کو کمپیوٹر سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کی جاتی ہیں:
جیل میں موجود کسی ایک بیرک کو کمپیوٹر لیب کی شکل دینا اور خواتین قیدیوں کا باہر کی دنیا سے کٹ کر بھی دنیا کو اپنی انگلیوں کی پوروں پر محسوس کرنا یقینا خوش آئند امر ہے۔اس حوالے سے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ انھیںقیدیوں میں کچھ ایسی خواتین بھی سامنے آئی ہیں جو پیشہ ورانہ اپروچ رکھتی ہیں اور آگے بڑھنے کا زبر دست جذبہ ُان میں موجودہے ۔ سینٹرل جیل میں خواتین قیدیوں کو کمپیوٹر کی تربیت دینے والی زینب منیر کا کہنا ہے کہ انھی کورسز میں غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل خواتین قیدی بھی سامنے آئی ہیں:
اس طرح کے ووکیشنل کورسز ملک کی دیگر جیلوں میں بھی شروع کئے جانے چاہئیں۔اس نوعیت کی مثبت سرگرمیوں سے خواتین قیدیوں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ جدید علوم سے واقفیت بھی فراہم کی جاسکتی ہے یوںجیلوں سے رہائی پانے کے بعد ایک نئی شناخت ان خواتین کے ہمراہ ہو گی جو یقینا آئیندہ زندگی میں انکے لئے معاون ثابت ہو گی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *