قومی اور بین الاقوامی سطح پر بے شمار شعبوں میں خواتین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں،انھی میں ایک شعبہ کال سینٹر انڈسٹری کا ہے، جو بڑی تیزی سے پاکستان میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ نوجوانوں کیلئے اس شعبے میں ترقی کے لامحدود مواقع موجود ہیں، نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر مصروف عمل کال سینٹرز بھی نوجوانوں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔خواتین کیلئے اس شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع موجود ہیں، ہر شہر میںموجود رجسٹرڈ ٹریننگ سینٹرز خواتین کو اس شعبے سے متعلق ٹریننگ فراہم کر رہے ہیں،اس سلسلے میں مختلف تعلیمی اداروں کی جانب سے سرٹیفکیٹ اور ڈگری کورسز بھی کروائے جاتے ہیں ۔
کراچی میں واقعParlance کال سینٹر انسٹیٹیوٹ کے سربراہ محمد فہد کا اس بارے میں کہنا ہے کہ:
ٹریننگ اور سیلف گرومنگ کے ذریعے خواتین کم وقت میں زیادہ آسانی سے کال سینٹر انڈسٹری میں اپنی جگہ بنا کر معاشی استحکام حاصل کر سکتی ہیں:
کال سینٹر انڈسٹری نے نہ صرف کسٹمر کیئر سروس اور ٹیلی مارکیٹنگ میں جدید اصطلاحات متعارف کروائی ہیں بلکہ انگریزی پر عبور رکھنے والی خواتین کیلئے اس شعبے میں نئی راہیں بھی کھولی ہیں۔اس طرح اب خواتین نہ صرف معاشی ترقی کی دوڑ میں شامل ہو رہی ہیں بلکہ پاکستان کیلئے اقتصادی ترقی کے نئے مواقع بھی جنم لے رہے ہیں۔
ایئر لائنز، ٹیلی کام کمپنیز اور تجارتی و اقتصادی ادارے اپنی مصنوعات اور سروسز کو متعارف کروانے اور اُنکے فروغ کیلئے کال سینٹر انڈسٹری پر انحصار کر رہے ہیں ،ان کال سینٹرز میں خواتین کیلئے نہ صرف تنخواہ اور مراعات کا پر کشش پیکج موجود ہے بلکہ بین الاقوامی انڈسٹری سے منسلک رہنے کے شاندار مواقع بھی ہیں۔
مقامی کال سینٹر میں بحیثیت کسٹمر کیئرریپریزنٹیٹوخدمات انجام دینے والی خاتون کا کہناہے کہ:
مہذب لب و لہجے میں روانی کے ساتھ پروڈکٹس اور سروسز کی معلومات فراہم کرنے والے کال سینٹر ایگزیکٹوزاب ہر کال سینٹر کی ضرورت ہیں۔ ایک سروے کے مطابق بین الاقوامی سطح پر ہمسایہ ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کے بعد اب پاکستان کے نوجوان خصوصاً خواتین کال سینٹر انڈسٹری میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔
مختلف اداروں کو معیار پر سمجھوتا نہ کرتے ہوئے بہترین سروسز فراہم کرنا ہی کال سینٹرز کے عروج کا بنیادی سبب ہے۔