برمی حکومت کی جانب سے نئی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت کے بعد سڑکوں میں گاڑیوں کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس میں سے بیشتر ٹیکسیاں ہیں، اگرچہ بیشتر ڈرائیورز مرد ہیں، تاہم کچھ خواتین بھی ٹیکسی چلانے میں مصروف ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ہیٹے ہیٹے ون حادثاتی طور پر ٹیکسی ڈرائیور بن گئیں، وہ اکثر اپنی گاڑی بطور ٹیکسی چلاتی ہیں۔
ہیٹے ہیٹے ون “میری گاڑی پر ٹیکسی کا سائن دیکھ کر لوگ مجھے روکتے ہیں، اور اگر ان کی منزل میرے راستے میں ہو تو میں بخوشی اضافی آمدنی کیلئے انہیں بٹھالیتی ہوں”۔
وہ روزانہ صبح سات بجے شہر کی گلیوں میں نکل آتی ہیں۔وہ پانچ گھنٹے کے دوران تیرہ ڈالرز تک کمالیتی ہیں، تاہم مردوں کی بالادستی والے اس شعبے میں ایک خاتون ڈرائیور کا کام آسان نہیں۔
ہیٹے ہیٹے ون “متعدد ٹیکسی ڈرائیور ٹریفک اشاروں پر مجھے دیکھ کر کافی اعتراضات اٹھاتے ہیں، کچھ بس ڈرائیورز تو مجھے تنگ بھی کرتے ہیں، کیونکہ نوجوان اور ایک خاتون ہوں”۔
ہیٹے ہیٹے ون شروع میں تو کافی پریشان رہتی تھیں مگر اب انہیں اس بات کی پروا نہیں رہی، بیشتر خواتین بھی ایک خاتون ڈرائیور کیساتھ خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں۔
مسافرخواتین ڈرائیونگ کے خطرات سے زیادہ بہتر آگاہی رکھتی ہیں، اس لئے میں خود کو زیادہ محفوظ سمجھتی ہوں”۔
خواتین ٹیکسی ڈرائیورز برما میں ایک نئی چیز ہے، تاہم اس ملک میں چند برسوں کے دوران کافی تبدیلیاں آئی ہیں اور خواتین کو زیادہ آزادی اور مواقع ملے ہیں،ہیٹے ہیٹے ون اپنے اس کام سے بہت خوش ہیں۔