ایک برمی سماجی کارکن نے حال ہی میں ایشیاءکے نوبل انعام کہلانے والے ریمن میگسیسے ایوارڈ جیتا،لیپائی سنگ را برما کی سول سوسائٹی کے سب سے بڑے ادارے کی بانی ہیں۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
چونسٹھ سال کی عمر کے باوجودلیپائی سنگ رااب بھی بہت متحرک ہیں، وہ ریاست کاچن میں انسانی بھلائی کے کافی کام کرچکی ہیں۔
لیپائی”ہمت لوگوں سے ملتی ہے، میانمار ہمارا ملک ہے اور یہ بہادر مرد و خواتین سے بھرا ہوا ہے، ہم لوگ بہت زیادہ بہادر ہیں اسی سے مجھے مضبوطی حاصل ہوتی ہے”۔
گزشتہ پندرہ سال کے دوران لیپائی سنگ رااور ان کے ادارے میٹا ڈیولیپمینٹ فاونڈیشن نے خانہ جنگی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کو معاونت فراہم کی ہے۔
لیپائی”ہمارے ملک میں خانہ جنگی کافی عرصے سے جاری ہے، یہاں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع بہت کم ہیں، غربت اور بے گھر افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے، تو ان چیلنجز کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہمارا کام طویل عرصے تک ختم نہیں ہوسکے گا”۔
ان کی جدوجہد دیکھ کر ہی انہیںریمن میگ سیسے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
لیپائی”جیسا میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ یہ اجتماعی کامیابی ہے، میں حکومت، سیاسی رہنماءاور برادریوں سمیت ہر ایک کی شکر گزار ہوں جنھوں نے میرا اور میری میٹا ڈویلیپمینٹ فاونڈیشن کے ساتھیوں کا خیرمقدم کیا، اس کے علاوہ مقامی این جی اوز اور دیگر سماجی کارکن جنھوں نے اس ملک کا نام روشن کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کی”۔
لیپن سنگ را،کاچن قبیلے سے تعلق رکھنے والی پہلی شخصیت ہیں جنھوں نے یہ اعزاز جیتا ہے، انھوں نے سماجی کاموں کا آغاز چالیس سال کی عمر میں کیا۔
لیپائی سنگ را” میں اس وقتسنو برما بارڈر پر تھی، اس وقت سرحد کے ساتھ چین کے اندر لاکھوںکاچن پناہ لئے ہوئے تھے، میں ان سے ملی اور ان سے بات کی، اور پھر میں نے ان ضرورت مند لوگوں کی مدد کا فیصلہ کیا”۔
فوجی حکومت کے دور میں متعدد لسانی گروپس نے خودمختاری کے حصول کیلئے تحریکیں شروع کی تھیں اور اب بھی برما کے کچھ حصوں میں خانہ جنگی جاری ہے۔لیپا ئی سنگ راکا کہنا ہے کہ خانہ جنگی کا سیاسی حل نکالا جانا چاہئے۔
لیپا ئی سنگ را”سیاست ہی اس مسئلے کا واحد ہے، اسے فوجی طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا، لوگوں کو سیاسی عمل میں شامل کرنا ہوگا، میں ہر اس رہنماءکی حمایت کروں گی جو اس حل پر عملدرآمد کی کوشش کرے گا”۔
اس ایوارڈ کے ساتھ لیپا ئی سنگ را کو پچاس ہزار دالرز بھی دیئے گئے، جو وہ اپنی ریاست کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کریں گی۔
مقامی افراد کو ڈیم کی تعمیر کیلئے اس علاقے سے زبردستی نکال دیا گیا تھا، لیپا ئی سنگ راان افراد میں ماحولیاتی اور انسانی حقوق کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا چاہتی ہیں، مے سابے پے کن ہتائی، کاچن وومنز پیس نیٹورک کی کوآرڈنیٹر ہیں۔
مے سابے”یہ ایوارڈ نہ صرف لیپا ئی سنگ رابلکہ تمام کا چن خواتین کی خدمات کا اعتراف ہیں جو ترقی اور انسانی ہمدردی کا کام کررہی ہیں۔ میں اس اعزاز کے بعد لپائی پر بہت فخر محسوس کررہی ہوں، وہ اس کی مستحق تھیں، انھوں نے کا چن برادری کیلئے بہت کچھ کیا ہے”۔
انہیں توقع ہے کہ لیپا ئی سنگ راکو ملنے والا ایوارڈ دیگر خواتین کو اس میدان میں لانے کا سب بنے گا۔
مے سابے”یہ ایک نیا باب ہے، عالمی برادری نے ہماری برادری کی ترقی کیلئے خواتین کے کردار کا اعتراف کیا ہے، تو مجھے توقع ہے کہ برادری یا برمی سول سوسائٹی بھی خواتین کے کردار کو سمجھے گی اور انہیں مستقبل میں امن اور انسانی ہمدردی کے کاموں میں مزید شامل کرے گی”۔