برما کے طبی نظام میں حالیہ اصلاحات کے باوجود روایتی ادویات کا استعمال بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ متعدد علاقوں میں حکومتی ہسپتالوں کی عدم موجودگی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
مون اسٹیٹ کی خانقاہ ایک عبادت گاہ سے زیادہ حیثیت رکھتی ہے، یہاں درجنوں افراد روزانہ علاج کروانے کیلئے آتے ہیں۔گزشتہ تیس برس سے یہ خانقاہ ایک علاج گاہ کے طور پر کام کررہی ہے، بددانتا یو اوتاما سارا اس خانقاہ کے سربراہ ہیں۔
اوتاما سارا”میرے اساتذہ نے مجھے کہا تھا کہ روح کے ساتھ ساتھ میں عام لوگوں کی زندگیاں بچانے کا بھی کام کروں”۔
اوتاما سارانے رسمی طبی تربیت حاصل نہیں کی ہوئی، بلکہ انھوں نے روایتی علاج کا طریقہ کار ایک اور بھکشو سے سیکھا۔
اوتاما سارا”اس سے ان لوگوں کی مدد کی جاتی ہے جو کسی ڈاکٹر کو تلاش نہیں کرپاتے”۔
وہ روزانہ سو کے لگ بھگ مریضوں کا علاج کرتے ہیں، جس کیلئے انھوں نے کئی معاون بھی رکھے ہوئے ہیں۔ ما ون پاپا کیاونے نرسنگ کی تربیت لی ہوئی ہے مگر اس کے باوجود انھوں نے کسی ہسپتال کی بجائے اس روایتی طبی مرکز میں کام کرنے کا فیصلہ کیا۔
ما ون پاپا”یہاں لوگوں کو میری زیادہ ضرورت ہے”۔
یہاں زیادہ تر کمر درد یا ہڈی ٹوٹ جانے سے متاثرہ افراد کا علاج ہوتا ہے، یہ خانقاہ کسی ایکس رے مشین، پلاستر اور سرجری کے یہ کام کرتی ہے، تاہم ما ون پاپا کیاوکا کہنا ہے کہ ہم نے اپنا بہتر طریقہ کار مرتب کرلیا ہے۔
ماون پاپا”ہوسکتا ہے کہ لوگ کہیں کہ ہمارا نظام کمزور ہے، تاہم مکمل تو کچھ بھی نہیں ہوتا، ہسپتالوں کی اپنی ضروریات ہوتی ہیں اور ہماری اپنی، تاہم اس کا انحصار مریضوں کی تکلیف پر ہوتا ہے، اگر وہ یہاں آئے تو ہم ان کے لئے ہر ممکن بہتر کوشش کرتے ہیں، میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہسپتال یا ہم میں سے کون زیادہ بہتر ہے”۔
متعدد مریض روایتی طریقہ علاج کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔
کو نینگ تین ماہ قبل ٹانگ ٹوٹ جانے کے بعد یہاں آئے تھے۔
کو نینگ “موٹرسائیکل کے حادثے میں میری ٹانگ ٹوٹ گئی تھی اور میری ٹانگ ہل بھی نہیں پاتی تھی، میں نے ایک رات ہسپتال میں بھی گزاری اور پھر میں وہاں سے یہاں یعنی خانقاہ میں آگیا”۔
شدید فریکچر کے باوجود کو نینگ ہسپتال میں جانے کیلئے تیار نہیں کیونکہ وہاں اسے آپریشن کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
کو نینگ “مجھے ڈر تھا کہ میں اپنی ٹانگ سے محروم ہوجاﺅں گا اور اس میں اسٹیل راڈ لگانی پڑے گی جس کا خرچہ میں اٹھا نہیں سکتا۔ یہاں آکر مجھے لگتا ہے کہ یہ معالج زیادہ بہتر ہیں، ہسپتال میں تو ڈاکٹر بھی نہ ہونے کے برابر تھے، میرے پڑوسیوں نے مجھے یہاں آنے کا مشورہ دیا تھا”۔
برما کے متعدد ہسپتالوں کو عملے کی کمی کا سامنا ہے، آپریشن کے اخراجات بہت زیادہ ہیں اور لوگوں ہڈیوں کی جگہ راڈ لگوانے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔
بداناتا”اس علاقے کے لوگ ہسپتال جانا پسند نہیں کرتے، اگر ان کی ٹانگ ٹوٹ جائے اور انہیں ہسپتال جانا پڑے تو انہیں راڈ لگوانی پڑتی ہے، مگر یہاں ہم ایسا نہیں کرتے اور اصل ہڈی کو ہی ٹھیک کرتے ہیں”۔
اس طریقہ علاج کے دوران جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات اور مساج وغیرہ پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے،یو پن مینے روایتی ادویات کی دوکان چلاتے ہیں، جس کے لئے وہ قدرتی اجزاءاپنے باغ میں اگاتے ہیں۔ انکا خاندان 19 ویں صدی سے یہ ادویات بنانے کا کام کررہا ہے۔
یو پن”یہ ادویات کم موثر نہیں، کئی بار لوگوں کو دل کا دورہ پڑتا ہے اور وہ ہسپتال کا رخ کرتے ہیں، جس کے بعد وہ یہاں آجاتے ہیں۔ جب ہم انہیں روایتی ادویات اور مساج کرتے ہیں تو وہ ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر وہ پہلے ہسپتال اور پھر یہاں کا رخ کرتے ہیں”۔
یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہنگامی حالات میں لوگ ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، مگر جب بات طویل المعیاد علاج کی ہو تو لوگ روایتی طریقہ کار پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔
باددانتانا”بیشتر افراد علاج کے بعد ٹھیک ہوجاتے ہیں، کئی بار تو ایسے لوگ بھی ہمارے علاج سے صحت یاب ہوجاتے ہیں جو ہسپتالوں میں رہ کر بھی اپنی بیماری سے پیچھا نہیں چھڑا پائے تھے، یہاں تک کہ مفلوج ہوجائے والے افراد بھی ٹھیک ہوجاتے ہیں”۔
کو نینگ کی حالت اب کافی بہتر ہے۔
کو نینگ”اب میں چل پھر سکتا ہوں اور میں بہت خوش ہوں”۔