اقوام متحدہ کے مطابق ہر سال نوسو سے زائد بچوں کو برما میں ہیومین ٹریفکنگ کرنے والے عناصر سے بچالیا جاتا ہے، اس کے باوجود بہت سارے بچے غائب ہوجاتے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیںایک رپورٹ۔
کے کھن کی بیٹی گزشتہ سال جولائی سے غائب ہے،جس رات وہ بچی غائب ہوئی، کے کھن کی ماں کے اسٹال پر پولیس نے شراب کی تلاش میں چھاپہ مارا تھا۔
کے کھن”رات نوبجے پولیس نے غیرقانونی الکحل کی تلاش میں چھاپہ مارا، اس وقت میری بیٹی باہر کچھ کھانے پینے کا سامنا لینے گئی، وہ بہت افراتفری کا وقت تھا، جس کے دوران ہمیں محسوس ہوا کہ وہ بچی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہم نے اسے ہر جگہ تلاش کیا، ایک شخص نے بتایا کہ میری بیٹی کوئی شخص موٹرسائیکل پر لے گیا ہے، اس کے بعد سے اس کا کچھ پتا نہیں”۔
اس گمشدہ بچی مئے تھو کھن کی عمر صرف چار سال تھی، اس کے خاندان نے رشتے داروں سے رابطہ کیا، گمشدگی کے پوسٹرز گلیوں میں لگوائے اور اخبارات میں اشتہارات دینے کے ساتھ پولیس سے بھی رجوع کیا۔
کے کھن”بچی کی گمشدگی کی رات جب ہم مقدمہ درج کرانے کے لئے پولیس اسٹیشن گئے تو پولیس والوں نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی رات ہورہی ہے ہم صبح آئیں۔ہم رات بھر اسے تلاش کرتے رہے، پہلے ہمارا خیال تھا کہ کوئی ہم سے مذاق کررہا ہے اور میری بچی جلد واپس آجائے گی، اس لئے ہم انتظار کرتے رہے، مگر وہ کبھی واپس نہیں آئی اور میں اب بھی اسے تلاش کررہی ہوں”۔
یہ کوئی واحد واقعہ نہیں، اقوام متحدہ کے ہیومین ٹریفک کے خلاف کام کرنے والے ادارے نے کہا کہ برما سے بہت زیادہ بچے ہیومین ٹریفکنگ کا شکار ہورہے ہیں۔ برما میں ہر سال ہزاروں بچے غائب ہوجاتے ہیں، جن میں سے متعدد کو فوج یا جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے، جبکہ باقی جبری مشقت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ڈا اومر اے اے چا ، اقوام متحدہ کے انٹر ایجینسی پراجیکٹ آن ہیومن ٹریفکنگ کی نیشنل پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔
ڈا اوھمر”گمشدہ بچوں کی تعداد میں نہ تو اضافہ ہورہا ہے اور نہ ہی کمی، مگر ہم نے ایک ہاٹ لائن قائم کردی ہے اور گزشتہ دو برسوں کے دوران ہمارے پاس کافی واقعات کا اندراج ہوا ہے”۔
برما میں ہیومین ٹریفکنگ کی روک تھام کیلئے کچھ پیشرفت ہوئی ہے، اور اس ملک نے عالمی ادارہ محنت کے جبری مشقت کے
خاتمے کے معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود ڈا اوھمر کا کہنا ہے کہ ابھی بھی بہت کچھ کئے جانے کی ضرورت ہے۔
ڈا اوھمر”انتظامیہ کو ہیومین ٹریفکنگ اور گمشدہ بچوں کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا ہوگا، یہ بہت بڑا مسئلہ ہے اور اسے موثر طریقے سے حل کیا جانا چاہئے”۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ برما کو ہیومین ٹریفکنگ روکنے کے لئے موثر میکنزم ترتیب دینا چاہئے۔کے کھن ابھی بھی پرامید ہیں کہ ان کی چار سالہ بچی ایک دن گھر واپس آئے گی، مگر وہ اب اپنے بیٹے کے تحفظ کیلئے بھی فکرمند ہیں۔
کے کھن “جی ہاں میں اپنے بیٹے کے لئے بھی فکر مندہوں، میں اس کا بہت خیال رکھ رہی ہوں اور میں اسے تنہا باہر جانے نہیں دیتی۔ میں اپنی بیٹی کو تو کھو چکی ہوں اور اب میں ایسی تکلیف دوبارہ اٹھانا نہیں چاہتی”۔