دنیا بھر میں افیون کی پیداوار کے حوالے سے برما دوسرا بڑا ملک ہے، اگرچہ اس حوالے سے اعدادوشمار تو دستیاب نہیں مگر مختلف حلقوں کا دعویٰ ہے کہ نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
تیئیس سالہ سینگ ناوروزانہ دو بار ہیروئین اپنی نسوں میں انجیکٹ کرتا ہے، اس نے چھ برس قبل امتحانات میں ناکامی کے بعد ہیروئین کو استعمال کرنا شروع کیا تھا۔
سینگ”میرے کچھ دوست اسے استعمال کرتے تھے اس لئے میں نے بھی اسے آزمانے کا سوچا، پہلی دفعہ میرے دوستوں نے مجھے بہت زیادہ ہیروئین پلادی جس سے میں مرنے کے قریب ہوگیا، میرے منہ سے جھاگ نکلنے لگا تھا”۔
سینگ ناو اکثر اپنے رشتے داروں کیساتھ لکڑیاں کاٹنے کا کام کرتا ہے، تاہم جب وہ فارغ ہوتا ہے تو اپنے دوستوں کے ساتھ ہیروئین اپنے جسم میں داخل کرکے وقت گزارتا ہے۔
سینگ”میری ماں نے مجھے اس لت سے بچانے کیلئے ینگون بھی بھیجا، جہاں میں دو سے تین ماہ رہا اور اس سے چھٹکارہ پاکر واپس آیا”۔
مگر اب وہ پھر ریاست کاچن پہنچ کر اس عادت کا شکار ہوگیا ہے۔
سینگ”اگر میں بحالی نو مرکز جاﺅں تو میں ایک یا دو ماہ میں اس عادت سے نجات پاسکتا ہوں، مگر جب میں واپس آتا ہوں اور اپنے دوستوں کو دیکھتا ہوں تو پھر سے اسے استعمال کرنے لگتا ہوں، یہاں ہیروئین کا حصول بہت آسان ہے”۔
بیرنگ ناو ریاست کاچن کے میٹسین ڈیم پروجیکٹ کے قریب واقع ایک گاﺅں کے پادری ہیں، چین کی مدد سے تعمیر کئے جانیوالا اس ڈیم پر کام عوامی احتجاج کے بعد روک دیا گیا تھا۔
برینگ نو”پراجیکٹ کے آغاز اس علاقے میں سونے کی تلاش کیلئے متعدد افراد پہنچ گئے تھے”۔
وہ مزید بتارہے ہیں۔
برینگ نو”اسی وقت یہاں منشیات کا کاروبار شروع ہوا، اس سے پہلے ہم نے کبھی منشیات کے بارے میں سنا بھی نہیں تھا، مگر اب ہر ایک یعنی نوجوان اور بوڑھے سب نشے کی لت میں مبتلا ہوچکے ہیں”۔
اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعدادوشمار نہیں کہ برما میں کتنے افراد منشیات استعمال کرتے ہیں، تاہم مقامی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔برما میں حالیہ جمہوری اصلاحات کے بعد حکومت پر منشیات کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے دباﺅ بڑھا ہے۔
یہ حکومت کا انسداد منشیات مہم کا گانا ہے، جس کی شاعری میں کہا گیا ہے کہ منشیات ایک ایسی آگ ہے جو زندگی کو تباہ کرکے رکھ دیتی ہے۔
یُویا من ایک گروپ وولینٹیئری سوشل ورکرز ایسوسی ایشن کے بانی ہیں، جو منشیات کے عادی افراد کو اس لت سے بچانے کیلئے کام کررہا ہے، انکا چھوٹا بھائی بھی منشیات کی زیادہ مقدار کے باعث ہلاک ہوگیا تھا۔
یُو یا من”میں اپنے خاندان کے رکن یعنی اپنے بھائی کو تو اس عادت بد سے بچانے میں ناکام رہا، مگر اب میں نہیں چاہتا کہ ایسا دیگر افراد کیساتھ بھی ہو”۔
تاہم انکا کہنا ہے کہ اس چکر کو توڑنا بہت مشکل چیلنج ہے۔
من”کئی برس سے جاری بحالی نو کی مہم، جہاں ہم معاشرے میں واپسی کیلئے ان متاثرہ افراد کو تیکنیکی تربیت فراہم کرتے ہیں، یہ لوگ واپس منشیات استعمال کرنے لگتے ہیں، ہم اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ہمارے مریضوں کو طویل عرصے تک ہماری مدد کی ضرورت ہے”۔
انکا کہنا ہے کہ سب سے بہترین چیز یہ ہے کہ آغاز سے ہی ان لوگوں کو اس لت میں مبتلا ہونے سے روکا جائے۔
من” روک تھام یا پابندے علاج سے بہتر حکمت عملی ہے، ہمیں برادریوں اور اسکولوں کی سطح پر عوامی شعور اجاگر کرنا ہوگا، ہم جانتے ہیں کہ ہمارا کام زیادہ بڑے پیمانے پر نہیں مگر اس چھوٹے کام کے مستقبل پر زبردست اثرات مرتب ہوں گے”۔