کراچی کے علاقے کورنگی میں میاں بیوی نے اولادنرینہ کے حصول اور مالی حالات کی بہتری کیلئے اپنی 4ماہ کی بیٹی کو قتل کردیا۔
پاکستان میں توہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی کی ایک سے بڑھ کر ایک مثال ملتی ہے نتیجتاً آئے روز ایسے لرزہ خیز واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ روح کانپ جاتی ہے۔11جنوری 2010ءکواسی طرح کا ایک واقعہ اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا کی شہہ سرخیوں پرچھایا ہوانظرآیاجس میں کراچی کے علاقے کورنگی نمبر6 کے رہائشی میاں بیوی نے ایک جعلی پیر کے کہنے پر چلہ کاٹنے کے عمل کے دوران اپنی 4 ماہ کی بچی فضیلت کو قتل کرکے لاش کو گھر میں دفنا دیا۔ مالک مکان نے شک ہونے پر پولیس اور علاقہ ناظم کو اطلاع دی۔ جس وقت پولیس نے گھر پر چھاپہ ماراتو ملزم ندیم اپنی4سالہ بیٹی مریم کے ہاتھ پاو¿ں باندھ کراسے قتل کرنے کی تیاری کررہاتھا۔پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم ندیم کو حراست میں لے لیا اور ملزم کی نشاندہی پر کمرے میں دفن کی گئی4ماہ کی فضیلت کی لاش برآمد کرلی۔ملزمان کوعلاقہ مجسٹریٹ زمان ٹاﺅن ایسٹ کی عدالت نمبر 16میں پیش کیا گیا جہاںسے انھیںریمانڈپر پولیس کی حراست میںدیدیاگیا ۔عزیز محمد زمان ٹاو¿ن تھانے کے ایڈیشنل ایس ایچ او ہیں ۔
ماہرین نفسیات کے مطابق معاشرتی دباﺅاورتعلیم کی کمی انسان نے توہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی میں مبتلاکردیا ہے،کراچی یونیورسٹی کے سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسرحیدر رضوی کہتے ہیں۔
جبکہ علمائے کرام کا کہنا ہے کہ دین سے دوری کے باعث جادوٹونے کی جانب لوگوںکا رجحان بڑھ رہا ہے، ممتازعالم دین ڈاکٹراسراراحمدکا کہنا ہے۔
ہمارے ہاں بھی جادوکئی شکلوں میں تسلیم کیا جاتا ہے،مثلاً تعویز، گنڈے، جن اور بھوت کا چمٹنا اور اتارنا وغیرہ۔ آج کے ترقی یافتہ دورمیں ان سب چیزوں کو توہم پرستی کے سواکچھ نہیں کہا جاتا،ہمارے ملک میں ہزاروں جعلی پیروں کے اشتہارات گلی کوچوں میں عام دیکھے جاسکتے ہیں، جن سے دھوکہ کھانے والا شخص مال وعزت کیساتھ کئی باراپنی جان سے بھی ہاتھ دھوبیٹھتا ہے۔رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمن اس واقعے پراپنی رائے کا اظہارکررہے ہیں۔
کراچی میں جعلی عاملوں کے کہنے پر اولاد کو قربان کردینے کے واقعات نئے نہیں ہیںاسطرح کے کئی واقعات ملک میں سامنے آتے رہے ہیںجس میں سب سے زیادہ شہرت2004میں پیش آنیوالے واقعے کوملی جب 24اپریل 2004ءکو ملیرکے رہائشی یونس نے ایک عامل کے کہنے پر اپنی دس سالہ بیٹی مریم کو ذبح کردیا تھا۔
کورنگی میں بچی کو گلہ دباکرقتل کرنیوالے والدین کا کہنا ہے کہ ان کے رشتہ داروں نے ان پرکالاجادوکرایا تھا جسکی وجہ سے انکے ہاں بیٹے کی ولادت نہیں ہورہی تھی اورا بتک انکے 4بچے جادو ٹونے سے مر چکے ہیں۔
ملزم ندیم نے اپنی4ماہ کی بچی کی ہلاکت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ۔
انسانی حقوق کیلئے سرگرم LHRAکے سربراہ ضیاءاعوان ایڈووکیٹ نے چارسالہ مریم کو والدین کی تحویل سے لینے کیلئے کراچی کی مقامی عدالت میں درخواست دائرکرتے ہوئے موقف اختیار کیاہے کہ بچی کے والدین نے چلّہ کاٹنے کے دوران شیر خوار بچی کو ہلاک کر دیا تھا، اس کی والدہ کی نفسیاتی حالت ٹھیک نہیں، خطرہ ہے کہ یہ والدین اس بچی کو بھی ہلاک کر دیں گے۔ لہٰذا اس بچی کو ان کے حوالے کیا جائے۔
کراچی میں اس وقت تقریبا دو سے ڈھائی ہزارجعلی پیروں اور عاملوں کی دکانیں اور آستانیں قائم ہیں۔اس بارے میں وزیراعلیٰ سندھ کے خصوصی مشیربرائے انکوائریزاینڈانسپکشن وقاص ملک کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس کو ہدایات دےدی گئی ہیں کہ فوری طورپر ہرعلاقے میں کام کرنیوالے جعلی عاملوں کے بارے میں معلومات جمع کریں اور خفیہ ادارے بھی اس سلسلے میں حکومت بھی مددکریں تاکہ انکے خلاف آپریشن شروع کیا جاسکے۔
