Domestic Violance Bill گھریلو تشدد کے خلا ف بل

پاکستان بھر میں خواتین کی ایک بڑی تعداد گھریلو سطح پرتشدّد کا نشانہ بنتی ہے۔ہمارے معاشرے میں، جہاںجہالت عام ہے وہاںکئی گھرانوں میں عورت پر ہاتھ اُٹھانا مردانگی کی علامت سمجھا جا تا ہے۔تعلیم و تربیت کی کمی اور معاشی اور سماجی مسائل کے باعث کسی نہ کسی گھر میں کوئی نہ کوئی عورت جسمانی اور نفسیاتی تشدّد کا نشانہ بنتی رہتی ہے۔
حال ہی میں سینیٹ کی جانب سے گھریلو تشدّد کی روک تھام کیلئے بِل کی منظوری دی گئی ہے،جسکے تحت خواتین کو جسمانی تشدّدکا نشانہ بنانے یا اس نوعیت کی کوئی بھی دھمکی دینے کی صورت میں خاتون کے شوہر یا دیگر رشتے داروں کو جیل ہو سکتی ہے۔۔۔اسکے علاوہ بیوی کو طلاق کی دھمکی دینا بھی فوجداری جرم سمجھا جائے گا۔۔۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا اس نوعیت کے بِل اورقراردادوں کی منظوری سے خواتین پر ہونے والے تشدّد کو روکا جا سکتا ہے؟
خواتین پر ہونے والے تشدّد کی روک تھام کیلئے منطور کئے گئے بِل کی بریفنگ دیتے صوبائی وزیر برائے بہبود نسواں توقیر فاطمہ بھٹونے کہا:

جہیز کی لعنت، جہالت کی بڑھتی ہوئی شرح،سسرالی رشتوں میں تناﺅ ،بیوی کے گھر والوں کی جانب سے مالی امداد میں کمی،بیوی کی واجبی شکل وصورت۔۔۔لاتعداد وجوہات ہیں جو بنتِ حوا کے جسم پر ان گنت زخم اور روح میں کبھی نہ بھرنے والے گھاﺅ لگاتی رہتی ہیں،صوبائی وزیر برائے بہبود نسواں توقیر فاطمہ بھٹوکا اس بارے میں کہنا ہے:

بے شمار کیسز میں گھریلو تشدّد کانشانہ بننے والی خواتین نہ تو رپورٹ درج کرواتی ہیں اور نہ ہی کسی قانونی ادارے سے رجوع کرتی ہیں،اور ظلم سہتے سہتے جسمانی اور نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتی ہیں۔ایک سروے کے مطابق گھریلو تشدّدکا شکار ہونے والی خواتین کے بچے عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیںاور آگے چل کرمنشیات کی جانب راغب ہو سکتے ہیں۔
گھریلو تشدّد کا شکار خواتین کواپنے حقوق سے آگہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے ،اس سلسلے میں ایسے ادارے سرگرم عمل ہیں جوگھریلو تشدّد کانشانہ بننے والی خواتین کوقانونی امداد فراہم کر رہے ہیں ،لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے وجود پر اُٹھنے والے ہاتھ کو روکنے کا شعور خود خواتین میں بیدار کیا جائے ،اس حوالے سے گھریلو تشدّد تدراک و تحفظ بِل پر عملی طورپہ عملدرآمد کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *