Asad Amanat Ali Khan Death Anniversary اسد اما نت علی خا ن کی بر سی

پٹیالہ گھرانے کے چشم و چراغ اسد امانت علی خاں 25 ستمبر 1952 کو پیدا ہوئے۔
اسد امانت علی خان، استاد امانت علی خان کے صاحبزادے، استاد فتح علی اور استاد حامد علی خان کے بھتیجے اور اورشفقت امانت علی خان کے بڑے بھائی تھے۔انہیں موسیقی کا فن اپنے والد امانت علی خان سے ورثے میں ملالیکن انھوں نے اپنی شناخت علیحدہ سے منوائی۔اسد امانت علی خان نے اپنی گائیگی کا آغاز 10 سال کی عمر سے کیا اور ایف اے کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد موسیقی کو ہی پیشہ بنایا۔اسد امانت علی خان نے کلاسیکل موسیقی سے تعلق رکھنے والے خاندان میں چار چاند لگائے۔ان کی غزلیں اور کلاسیکل راگ کو عالمی شہرت ملی۔
اپنے والد استاد امانت علی کی وفات کے بعد انشا جی کی لکھی اور استاد امانت کی گائی غزل’انشا جی اٹھو اب کوچ کرو¿‘ گانے کے بعد اسد علی خان کو اولین شناخت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔
تاہم انہیں اصل شہرت عمراں لنگھیاں پباں بھارسے ملی اور اس کے بعد وہ انتقال تک گائیکی کے ایک درخشاں ستارے رہے۔
انہوں نے بہت سے مشہور گانے گائے۔ اپنے چچا حامد علی خان کے ساتھ ان کی جوڑی کو بھی بہت پسند کیا گیا۔ چچا بھتیجے نے پاکستان کے علاوہ بھارتی فلموں میں بھی موسیقی کا جادو جگایا۔
انہیں صدارتی ایوارڈ پرائڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیاتاہم ایوارڈ کے فوری بعد ہی ان کی طبیعت ناساز ہوگئی اور وہ علاج کیلئے لندن چلے گئے۔8 اپریل 2007 کو 52 برس کی عمر میں ان کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔
اسد امانت علی خان آج ہم میں نہیں مگر ان کی گائی ہوئی غزلیں اور گیت اب بھی کلاسیکل موسیقی کی پہچان ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *