سوزین فیروزنےریپ گیتوں کے ذریعے تاریخ رقم کردی ہے، وہ افغانستان کی پہلی خاتون ہیں، اور وہ اپنے روشن مستقبل کے حوالے سے پرامید ہیں۔
تیئیس سالہ “سوزین فیروز” ایک گیت ”لِسن ٹُو مائی اسٹوری ” گارہی ہیں۔ یہ ان کا پہلا سولو گیت ہے، جو افغانستان میں جاری خانہ جنگی کے بارے میں ہے۔ انکا خاندان 90ءکی دہائی میں خانہ جنگی کے دوران ایران آگیا تھا، جس کے بعد انہیں سات سال تک اسکول جانے یا گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔
سوزین فیروز” ایرانی عوام عام طور پر افغان شہریوں کو اچھا نہیں سمجھتے، ایک دن میں نے ایک ایرانی شخص کو افغانی مہاجر کو صرف اس لئے مارتے دیکھا کہ وہ افغانستان سے یہاں آیا ہے۔ میں یہ دیکھ کر بہت اپ سیٹ ہوئی”۔
وہ پڑوسی کے گھر ٹی وی دیکھتی تھیں، جہاں وہ ریپ میوزک کی محبت میں گرفتار ہوئیں۔
پہلے تو مجھےریپ سنگر دیوانے لگے، وہ ریپنگ کے دوران مسلسل یہاں وہاں اچھلتے رہتے تھے، مگر جب مجھے”افرو امیرکنز” کے بارے میں جاننے کا موقع ملا تو مجھے گیتوں کے ذریعے اظہار رائے کی آزادی کا احساس ہوا۔ وہ سنگرز اپنے ہاتھوں، ٹانگوں اور گردن پر زنجیریں لپیٹ کر آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کو لاحق مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر میں نے افغان شہریوں خصوصاً خواتین کو خانہ جنگی کے باعث درپیش مشکلات کوریپ گانوں کے ذریعے اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا”۔
“وہ آٹھ برس قبل طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان واپس لوٹیں۔انھوں نے مقامی ٹی وی”سوپ اوپیراز کے ذریعے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔
“سوزین فیروز” میں بچپن سے ہی اداکارہ اور گلوکارہ بننا چاہتی تھی، جب میں چھوٹی تھی تو میں اسکول کے ہوم ورک کے ساتھ اداکاری کی مشق بھی کرتی تھی۔ میری والدہ یہ دیکھ کر غصہ ہوجاتیں اور کہتیں، اے فلم اسٹار جلدی سے اپنا کام پورا کرو۔ ایک دن میری ایک دوست ہمارے گھر آئی اور میری والدہ کو کہا کہ اس کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ایک دن یہ اداکارہ بننے میں کامیاب ہوجائے گی”۔
سوزین فیروزکیلئے افغانستان کے قدامت پرست معاشرے میں ریپر بننا آسان نہیں تھا، جب انکا پہلا گانا انٹرنیٹ پر ریلیز ہوا تو انکے چچا اور دیگر رشتے دار پر سکتہ طاری ہوگیا اور وہ اسے باعث شرم قرار دینے لگے۔ اور ان کی ماں کو درجنوں نامعلوم افراد نے فون کے ذریعے قتل کرنے یا تیزاب پھینکنے کی دھمکیاں دیں۔ سوزین کے والد کو اپنی بیٹی کے تحفظ کیلئے سرکاری ملازمت چھوڑنا پڑی۔
“سوزین فیروز” ہمارے معاشرے میں ایسے افراد موجود ہیں جنھوں نے میری حوصلہ افزائی کی، مگر متعدد افراد نے ہر جگہ مجھے ہراساں بھی کیا۔جی ہاں مجھے rapper بننے کے باعث دھمکیاں ملیں مگر میں نے اپنا کام جاری رکھا اور میں کبھی ان دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوئیں۔ میں اپنے گانوں میں افغان خواتین پر تشدد کیخلاف آواز اٹھا رہی ہوں”۔
سوزین گزشتہ سال نے کابل کے معروف میوزک فیسٹیول میں لائیو پرفارمنس کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد سے ان کی ویڈیو کلپ سرکاری ٹی وی پر باقاعدگی سے دکھائی جارہی ہے۔بائیس سالہ دکاندار محمد رامِن کو یہ گیت بہت پسند ہے۔
“محمد رامِن” سوزین فیروزہمارے ملک کی پہلی خاتون ریپر ہیں، میں انہیں پسند کرتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ لوگ ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ ہمارا ملک میں تیس برس سے جنگ جاری ہے، اور اب ہمیں اس کی تعمیر نو کیلئے سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک کو مختلف شعبوں کیلئے بہت سارے ایکٹرز کی ضرورت ہے، Sosan ہمارے مسائل کو اپنے گیتوں کے ذریعے اجاگر کرسکتی ہے،اس لئے ہمیں اس کی مدد کرنی چاہئے”۔
انکا پہلا ہٹ گانا ” آر نیبرز” آٹھ ماہ قبل یوٹیوب پر ریلیز ہوا تھا، اس گانے کی ویڈیو میں سوزین نے ہپ ہوپ انداز میں جینز، زنجیریں اور بریسلٹس وغیرہ پہن کر پرفارم کیا، انھوں نے رومال تو اوڑھا مگر اسکارف نہیں۔
چوبیس سالہ یونیورسٹی کے طالبعلم احمد بشیرسوزین کی حمایت تو کرتے ہیں مگر انہیں کچھ تحفظات بھی ہیں۔
احمد بشیر” ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ ہے، وہ ٹوپیاں، ٹراﺅزر وغیرہ پہنتی ہے جو ہماری ثقافت اور روایت کا حصہ نہیں۔ اسے حجاب یا افغان لباس پہننے چاہئے، میرے خیال میں غیرملکی گلوکاروں کے لباس تو ٹھیک ہیں کیونکہ ان کی روایات اور ثقافت ہم سے مختلف ہیں”۔