(Afghan local displacement families faced with problem) بے گھر افغان شہریوں کے مسائل

اس وقت جنگ کے باعث پانچ لاکھ سے زائد افغان شہری پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان متاثرہ افراد پر حکومت اور عالمی امدادی اداروں کی جانب سے زیادہ توجہ نہیں دی جارہی۔ یہی وجہ ہے کہ ہرسال سردیوں میں ان کیمپس میں بہت سے بچے موسم کی شدت کے باعث چل بستے ہیں سنتے ہیں

یہ لوگ اپنے گھر کے بارے میں جاننے کا سوچ کر بھی خوفزدہ ہیں، ان کا تعلق جنگ زدہ صوبوں ہلمند اور اورگان سے ہے، ان کے گھر گزشتہ کئی برسوں سے نیٹو افواج اور طالبان کے درمیان جنگ کا میدان بنے ہوئے ہیں۔روزی خان بھی ان لاکھوں بے گھر افراد کے ساتھ پناہ گزین کیمپ کو ہی گھر سمجھے ہوئے ہیں۔

 روزی خان”   جنگ، تشدد اور طالبان کے خطرے کے باعث مجھے اپنا گھر چھوڑنا پڑا، میری زندگی وہاں بہت خراب ہوگئی اور میں اپنا سب کچھ کھو چکا تھا۔ میرے خاندان کے تمام بارہ افراد، گھر اور سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔ میرے تمام رشتے دار طالبان اور غیرملکیوں کے درمیان جھڑپ میں ہلاک ہوگئے اور اب میں اور میرا ایک بچہ ہی باقی بچے ہیں۔ ہم یہاں کیمپ میں مقیم ہیں ،کوئی ہماری مدد کیلئے تیار نہیں اور کوئی بھی ہماری آواز نہیةں سنتا”۔

کابل میں اس طرح کے چار پناہ گزین کیمپس قائم ہیں، موسم سرما میں یہاں سردی کی شدت رگوں میں خون منجمد کردیتی ہے، آج ایک کاروباری شخص نے ان متاثرین کیلئے کوئلہ فراہم کیا ہے تاہم ایک خاتون ناز بی بی کا کہنا ہے کہ س طرح کی امداد بہت کم ہی ملتی ہیں۔

ناز بی بی “   ہماری زندگی بہت بدتر ہوگئی ہے، اس سرد موسم میں ہمیں خیموں میں ناکافی سہولیات میں رہنا پڑتا ہے۔ ہمارے پاس خیمے کو گرم کرنے کیلئے ایندھن نہیں، جبکہ ہمیں مناسب مقدار میں خوراک بھی دستیاب نہیں۔ چاول، آٹا، تیل اور کمبل غرض کچھ بھی نہیں۔ آپ خود ہماری کسمپرسی کو دیکھ سکتے ہیں۔ ابھی میں اپنے خیمے کو گرم رکھنے کیلئے کچھ ڈھونڈنے کیلئے باہر جانا چاہتی ہوں”۔

یہ خاندان حکومت سے خوراک اور ایندھن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شیریں گل بھی ایک متاثرہ خاتون ہیں۔

 شیریں گُل “  حکومت کو لازمی طور پر اس سرد موسم کے دوران ہماری مدد کرنی چاہئے، ہم اس سے مناسب پناہ گاہ کی فراہمی کا بھی مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ اس سرد موسم میں ہمارے بچے بیمار ہوکر مررہے ہیں”۔

ان میں سے بیشتر بے گھر افراد کی گھر واپسی کی امید ختم ہوچکی ہے اور وہ حکومت سے رہائش کیلئے زمین کا بھی مطالبہ کرتے

ہیں، تاہم وزارت امیگریشن کے ترجمان اسلام الدین جرات کا کہنا ہے کہ اس کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

اسلام الدین “   ہم دیگر صوبوں سے آنے والے افراد کو کئی وجوہات کی بناءپر زمین دینا نہیں چاہتے۔ تاہم وہ افراد جنھیں بے گھر ہوئے دو برس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے ہم انہیں گھر کی تعمیر کیلئے ان کے آبائی صوبے میں زمین ضرور دیں گے”۔

اس وقت تک ان خاندانوں کو انہی کیمپوں میں مشکلات کا سامنا ہوگا، جہاں ان کے بچوں کا مستقبل غیریقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ محمد ظریف اور احمد باری ایسے ہی دو بچے ہیں۔

 محمد باری “  میں اسکول جانا چاہتا ہوں مگر نہیں جاسکتا کیونکہ میرے پاس کتابوں سمیت کچھ بھی نہیں۔ اس کے لئے پیسے چاہئے جبکہ یہاں ہمارے لئے کوئی اسکول بھی نہیں۔ اگر مجھے تمام سہولیات ملیں تو میں ضرور اسکول جاﺅں گا”۔

احمد “  ہمارے پاس اسکول نہیں اور ہمارے پاس وہ سب نہیں جس کی ہمیں ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *