میں نہیں مانتا جیسی شہرہ آفاق نظموں کے خالق اردو کے عظیم شا عر حبیب جا لب کو دنیا سے منہ موڑے آج بیس برس بیت گئے۔
حبیب جالب 28 فروری 1928 کو ضلع ،ہو شیا ر پو ر بھا رتی پنجا ب میں پیدا ہو ئے اینگلو ایریبک ہا ئی اسکو ل دہلی سے دسویں جما عت کا امتحا ن پا س کیا پندرہ سا ل کی عمر سے مشق سخن شرو ع کی۔
آ پ ابتدا ءمیں جگر مرا د آ با دی سے متا ثر تھے اور روا یتی غزلیں کہتے تھے آ زا دی کے بعد کرا چی آ گئے اور کچھ عر صہ معرو ف کسا ن رہنما حیدر بخش جتو ئی کی سندھ ہا ری تحریک میں کا م کیا، یہیں حبیب جالب میں طبقاتی شعور پیدا ہوا اور انہوں نے معاشرتی ناانصافیوں کو اپنی نظموں کا مو ضو ع بنایا۔
اُنیس سو پینسٹھمیں لا ہو ر میں رہا ئش اختیا ر کی ایو ب خا ن اور یحیٰ خا ن کے دور آمریت میں متعدد با ر قیدو بند کی صعو بتیں جھیلیں حبیب جا لب کی سیا سی شا عری آ ج بھی عا م آ د می کو ظلم کے خلا ف بے با ک آ وا ز اٹھا نے کا سبق دیتی ہے۔
حبیب جا لب 12 ما رچ 1993 کو 65 سا ل کی عمر میں اس دنیا ئے فا نی سے کو چ کر گئے
حبیب جا لب کی نظمو ں کے پا نچ مجمو عے برگ آ وا رہ ،سر مقتل ،عہد ستم ،ذکر بہتے خو ن کا ،اور گو شے میں قفس کے نا م سے شا ئع ہو چکے ہیں جو اردو کے اس عظیم شا عر کی یا دیں اپنے اندر سمو ئے ہو ئے ہیں۔