پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی یوم آب منایا جارہا ہے۔عالمی یوم آب کے منانے کا مقصد انسانی حیات کیلئے پانی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں سات ارب افراد موجود ہیں اوردوہزار پچاس تک یہ تعدا د نوارب ہوجائے گی۔
پاکستان کا تعلق نیم خشک علاقے سے ہے اور انڈس ریور سسٹم پانی کا بڑا ذریعہ ہے جس میں پہاڑوں پر برف پگھلنے سے پانی آتاہے، ملک کے شمالی علاقوں میںپہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریاوں کو ستر فیصد زائد پانی مہیا ہوتا ہے۔
اگرچہ پاکستان میں موسم گرما میںمون سون کی بارشوں اور پہاڑوں پر برف پگھلنے سے زراعت کو پانی مہیا ہوتا ہے تاہم گزشتہ چند برسوں سے اچانک سیلابوں کی آمد میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، دوہزار دس کے سیلاب اس ناگہانی آفت کا ثبوت ہیں جن سے بیس لاکھ افراد متاثر ہوئے اور زرعی زمین کے پانچ ملین ایکڑ کو بری طرح نقصان پہنچا۔ دوہزارگیارہ کے دوران بھی اسی طرح کاسیلاب سندھ اور بلوچستان میں دوبارہ آیا۔
اس وقت بھارت نے پاکستان کا پانی روک کر متعدد ڈیمز تعمیر کر لیے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کے بڑے دریا خشک ہو چکے ہیں اور اس وجہ سے پینے کے پانی اور کاشتکاری کیلئے پانی نایاب چیز بن چکا ہے۔
یو این وا ٹر کے مطابق آلودہ پانی کے استعمال کے باعث دنیا میں سالانہ پندرہ لاکھ سے زائد بچے ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں بچوں کی ساٹھ فیصد اموات کی وجہ آلودہ پانی ہے۔
عالمی ادارہ اطفال کے مطابق پاکستان کے اسپتالوں کے بیس سے چالیس فیصد بستر پانی کی آلودگی کے باعث ہونے والی بیماریوں کے مریضوں کے زیر استعمال رہتے ہیں۔وزارت ماحولیات کی واٹر پالیسی 2009ءکے مطابق ملک میں غیر معیاری پانی اور نکاسی آب کے ناقص نظام کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے باعث معیشت کو سالانہ ایک سو بارہ ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ ر ہا ہے، یومیہ تیس کروڑ روپے پانی کے باعث ہونے والی بیماریوں کی نذر ہورہے ہیں۔
