Valantine Day ویلینٹائن ڈے

پاکستان سمیت پوری دنیا میں آج محبت کے اظہار کا دن ویلینٹائن ڈے منایا جا رہا ہے۔
یوں تو عالمی میراث کے دامن میں کیا کچھ نہیں ہے لیکن اِس میں سب سے بڑا تقافتی ورثہ شاید ویلنٹائن ڈے ہے۔ زمانہ قدیم کے جذبے کی اب عالمی سطح پر گونج بڑے واضح انداز میں سنی جا رہی ہے۔
مورخین کے مطابق تیسری صدی عیسوی میں روم کے شہنشاہ کی جانب سے شادیوں پر اس وجہ سے پابندی لگادی گئی کہ کنوارے مرد اچھے فوجی ہوتے ہیں تو ایک پادری ویلینٹائن چوری چھپے جوڑوں کی شادی کراتا تھا، جس پر اسے 14 فروری کو قتل کردیا گیا، جس کی یاد میں یہ دن منایا جاتا ہے۔
آج ساری دنیا میں محبت کے عالمگیر جذبے کی گرفت میں آئے ہوئے نوجوان جوڑے ویلنٹائن ڈے منا رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چودہ فروری کو سرخ گلابوں کا جوبن ہوتا ہے۔سرخ گلاب اور سرخ لباس آج کے دِن کے ساتھ نتھی کردیا گیا ہے۔
امریکہ سے لے کر لاطینی امریکہ اور افریقہ سے لے کر ایشیا تک سبھی جگہ پر سرخ گلاب محبت کی علامت کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔پاکستان میں بھی گزشتہ چند برسوں سے اس دن کو منانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، تاہم کچھ حلقے اسے مغربی روایت قرار دے کر تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔
جہاں دنیا بھر میں اِس دِن کو خوشی اور مسرت کے ساتھ دیکھا اور منایا جاتا ہے وہیں کئی مسلمان عالم دین کی نظر میں یہ ایک وائرس ہے جو مسلم دنیا کے نوجوانوں کے اخلاق کو تباہ کرنے کا باعث بن رہا ہے۔
اِسی طرح بھارت میں شری رام سینا کے سرگرم کارکن سرخ گلاب خریدنے والوں کو ہراساں کرتے پھرتے ہیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنے میں آ یا ہے کہ ویلنٹائن ڈے صرف نوجوانوں کے لئے نہیں رہا بلکہ اِس کے دائرے میں وہ بڑی عمر کے لوگ بھی آ گئے ہیں جو محبت کے جذبے کا احترام کرتے ہیں اور کئی برسوں سے اِس کو ایک مقدس جذبے کا نام دیتے ہیں۔اور محبت کی زبان آج ہر ملک اور ہر ثقافت میں سرایت کرتی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *