Ustad Nusrat Fateh Ali Khan’s Birth Anniversary – معروف قوال،گائیک اورموسیکار استاد نصرت فتح علی خان کا یوم پیدائش

موسیقی کی دنیا کے عظیم نام استاد نصرت فتح علی خان کی آواز سرحدوں کی قید سے آزاد تھی۔تیرہ اکتوبر انیس سو اڑتالیس میں فیصل آباد میں پیدا ہونے والے اس فنکار نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ٹائم میگزین نے دوہزار چھ میں ایشین ہیروز کی فہرست میںانکا نام بھی شامل کیا۔بطور قوال اپنے کرئیر کا آغازاس فنکار کو کئی بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔آپکے والد کا نام فتح خان تھا وہ خود بھی نامور گلوکار،سازندے اور قوال تھے۔نصرت فتح علی خان کی قوالیوں کے پچیس البم ریلیز ہوئے ۔جنکی شہرت نے انہیں گینز بک اف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ دلوائی،ابتدا میں حق علی علی اور دم مست قلندر وہ کلام تھے جنہوں نے انہیں شناخت عطا کی۔

انکے مقبول نغموں میں آنکھیاں اڈیک دیاں،یار نا بچھڑے،میرا پیا گھر آیا،میری زندگی سمیت متعدد نغمے ہیں۔

نصرت فتح علی خان کی ایک حمد وہ ہی خدا ہے کو بھی بہت پذیرائی ملی

جبکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لئے گائے گئے گیت جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم سے نصرت فتح علی خان کو ہندوستان میں بھی بے انتہا مقبولیت اور پذیرائی ملی۔نصرت فتح علی خان نے جاوید اختر ،لتامینگیشکر،آشا بھوسلے اور اے آر رحمان جیسے فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔کئی بین الاقوامی فنکار نصرت فتح علی خان کے ساتھ کام کرنے کو اپنی خوش قسمتی قرار دیتے ہیں ۔

سولہ اگست انیس سو ستانوے میں انکی وفات دنیائے موسیقی کے لئے کسی سانحہ سے کم نہ تھی۔وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔انکی عمراڑتالیس سال تھی اور اپنی وفات کے وقت وہ اپنے کرئیر کے عروج پر تھے۔۔