Operation In Karachi کرا چی میں ٹا ر گٹ کلنگ

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے۔ چار دن قبل کراچی کی مشہور و معروف شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں چند لمحوں میں 13 انسان موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ 19 اکتوبر کی شام 6 بجکر15 منٹ پرجدید اسلحے سے لیس موٹرسائیکل سواروں نے کباڑی مارکیٹ موٹرپارٹس گلی میں داخل ہوکر 3 منٹ کا خونی کھیل کھیلا۔ دہشتگردوں نے چن چن کر دوکانداروں کو قتل کیا۔ 13 زندگیوں کے چراغ گل کرنے کے بعد دہشتگرد بہت اطمینان سے فرار ہوگئے ۔پولیس تو نہ پہنچی لیکن ہر بار کی طرح فلاحی اداروں کے رضاکار آناً فاناً جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔یہ کراچی کا ایک ہی سانحہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی صرف تین دنوں میں 55 افراد موت کے گھاٹ اتاردیئے گئے، جس میں سیاسی کارکنوں کے علاوہ عام لوگوںکی بڑی تعداد شامل تھی۔
حالیہ واقعات کا آغاز کراچی کے علاقے اورنگی ٹاون میں ہونیوالے 17 اکتوبر کے ضمنی انتخاب سے ہوا اور 16 سے 18 اکتوبر کے دوران، یعنی صرف دو دنوں میں 80 سے زائد افراد فائرنگ اور تشدد کرکے قتل کردیئے گئے۔دوسری جانب ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے گورنرہاوس کراچی میں21اکتوبر کوپیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کی کورکمیٹی کا ایک بار پھر اجلاس ہوا جس میں کراچی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگردوں کی گرفتاری کےلئے رینجرز کو مزید اختیارات دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
جبکہ وزیرداخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا کہنا ہے کہ ان کی منظوری کے بغیر کراچی میںکسی قسم کا آپریشن نہیں ہوگا۔
دوسری جانب گورنرہاوس کراچی میں ہونیوالے پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کی کورکمیٹی کے اجلاس میںشریک متحدہ قومی موو منٹ کے رکن سندھ اسمبلی رضا ہارون کا اس بارے میںکہنا ہے۔
رواں سال کا آغازہی سوگ سے ہوا اور سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب تک 1100 سے زائد افراد فائرنگ کے واقعات میں مارے گئے، جن میں 750 افرادٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔ جبکہ اس سال کے سب سے خونی مہینے جولائی اور اگست قرار پائے جن میں 200 سے زائد افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیرمحمد حسین محنتی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کوکراچی کی انتظامیہ سمیت مجرموں کا علم ہے۔
اگر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس کومختلف اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ یعنی مذہبی بنیاد پر قتل، لسانی بنیاد پر قتل، سیاسی بنیاد پر قتل جو بہت عام ہے اور ذاتی دشمنی کی بنیاد پر قتل سمیت بھتہ مافیا کی جانب سے بھی لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بڑی تعداد میں لوگ ذاتی دشمنیوں کا بھی شکار ہورہے ہیں۔ اکثر دوسرے شہروں سے جان بچا کر کراچی میں پناہ لینے والوں کو بھی ذاتی دشمنی کی بنیاد پر قتل کردیا جاتا ہے، جس پر ٹارگٹ کلنگ کا پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔
کراچی میں گزشتہ سال دسمبر سے جنوری تک ٹارگٹ کلنگ میں 73 افراد جاں بحق اور 38 زخمی ہوئے، جن میں سب سے زیادہ تعداد عام لوگوں کی تھی۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی تحقیقات کےلئے حکومت نے نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل بھی قائم کیا جس میں ایم کیوایم کی جانب سے 84، پیپلزپارٹی 75، اے این پی 54، سنی تحریک 40 اہل سنت و جماعت 14، جماعت اسلامی 51 درخواستیں جمع کرائیں۔
اے این پی خیبر پختونخواکے سربراہ افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے کےلئے کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنا ضروری ہے۔
حال ہی میں سابق سی سی پی او کراچی وسیم احمدبھی اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ ٹارگٹ کلنگ روکنے میں ناکام رہے اور انہوں نے 1100 افراد کے ٹارگٹ کلنگ میں قتل ہونے کا انکشاف کیا،اورخودپیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور وزیرمملکت نبیل گبول تو ایک ٹی وی چینل پریہاں تک کہہ گئے کہ حکومت کراچی کے حالات پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی ہے۔
سلیم ضیا مسلم لیگ ن سندھ کے چیف آرگنائزرہیں، ان کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کےلئے مصلحت کی سیاست چھوڑنی ہوگی۔
خلیج ٹائمز کے مطابق اس سال پاکستان میں خودکش دھماکوں میں 1208 افراد ہلاک ہوئے جبکہ صرف کراچی میں اسی عرصے میں 1233 افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔ اخبار نے مزید بتایا کہ کراچی میں لاقانونیت تبدیلی کا باعث بنتی ہے اور حالات کی خرابی کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے تاکہ وفاقی حکومت کو کمزور اور ملک کو نئے بحران سے دوچار کیا جائے۔ چنانچہ یہ بھی ایک فکرانگیزانتباہ ہے کہ ملک کی اقتصادی شہہ رگ میں منظم و مربوط قتل و غارت گری، انارکی اور امن دشمنی کے اسباب و محرکات کا سراغ لگانا ناگزیر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *