معروف موسیقار نثار بزمی یکم دسمبر انیس سو چوبیس کو بمبئی کے نزدیک واقع قصبہ خاندیش میں پیداہوئے۔انیس سو انتالیس میں نثار بزمی نے آل انڈیا ریڈیو میں بطور ڈرامہ آرٹسٹ اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کیا۔انیس سو چوالیس میں انہوں نے بمبئی ریڈیو سے نشر ہونے والے ڈرامے نادر شاہ درانی کی موسیقی ترتیب دی۔ اور پھر انکی دھنوں نے ایسا جادو جگایا کہ انہیں بھارتی فلمی دنیا میں قدم رکھنے سے کوئی روک نہ سکا۔پہلی فلم جمناپار کے بعد مسلسل بارہ برس تک آپ نے چالیس بھارتی فلموں کی موسیقی دی۔
1962ءمیں آپ نے بمبئی سے لاہور کا سفر اختیار کیا۔پاکستان آمد کے بعد خورشید انور،رشید عطرے اور دیگرمعروف موسیقاروں کے جھرمٹ میں اپنے لئے جگہ پیدا کرنا کوئی آسان کام نہ تھا،اس لئے 2 برس کی شدید جدوجہد کے بعد بھی پاکستان میں نثار بزمی کو صرف ایک فلم ہیڈ کانسٹیبلٰ ملی، تاہم انہیں اصل شہرت 1967ءمیں ریلیز ہونیوالے فلم لاکھوں میں ایک سے ملی۔اسی برس مہدی حسن کی آواز میں فلم آگ کا گانا یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا نے بھی نثاربزمی کی حیثیت کو مستحکم کیا۔ اگلے برس ہدایت کار فرید احمد کی فلم عندلیب ریلیز ہوئی،جسکے گیت کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے نے بہت مقبولیت حاصل کی۔
فلم امراو¿ جان کا گانا جو بچا تھا وہ لٹانے کے لیے آئے ہیں کی ریکارڈنگ کے دوران نثاربزمی اور میڈم نورجہاں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی، جسکے نتیجے میں ان کا دل لاہور کی فلمی دنیا سے اچاٹ ہوگیا اور انیس سو اکیاسی میں وہ کراچی شفٹ ہوگئے۔
لیکن اس سے پہلے وہ عالمگیر کو ہم چلے تو ہمارے سنگ سنگ نظارے چلے، طاہرہ سید کویہ محفل جو آج سجی ہے جیسے نغمات کے ذریعے فلمی دنیا سے متعارف کروا گئے۔اسی طرح امانت علی خان سے مورا جیا نہ لگے ، مہدی حسن سے گانا رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ اور یہ وطن ہمارا ہے تم ہو پاسباں اس کے، مہناز سے میرا پیار تیرے جیون کے سنگ رہے گا اور ناہید اختر سے اللہ ہی اللہ کیا کروجیسے گانے گوانے کا اعزاز نثاربزمی کو ہی حاصل ہے۔
بزمی صاحب کی آخری فلم ’ہم ایک ہیں‘ تھی جوانیس سو پچاسی میں ریلیز ہوئی اس میں انہوں نے حمیرا چنا کو متعارف کروایا۔چون سالہ کیرئیر کے دوران نثاربزمی نے ایک سو پندرہ بھارتی اور پاکستانی فلموں میں اپنی موسیقی کا جادو جگایا۔نثار بزمی کو انکی خدمات پر ایک درجن سے زائد نگار ایوارڈز اور پرائیڈ آف پرفارمنس کے صدارتی اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
طویل علالت کے باعث بائیس مارچ 2007ءکو کراچی میں نثار بزمی اس جہانی فانی سے کوچ کرگئے۔
