چاہے کوئی بھی مہینہ ہو ،لوڈشیڈنگ ایک عام بات بن چکی ہے ، لیکن رمضان لمبارک کی مقدس مہینے میں بھی لوڈ شیڈنگ سے اس وقت پورا پاکستان شدیدمتاثر ہے،سحر و افطار دو ایسے اوقات ہیں جس میں اگر بجلی اچانک غائب ہو جائے تو خاتون خانہ دہری پریشانی کا شکار ہو جاتی ہے،ایک مہنگائی اور دوسر ی لو ڈشیڈنگ ،خواتین اس با رے میں کہا کہتی ہیں آ ئے سنتے ہیں۔
صبا عارف ایک گھریلو خاتون ہیں ،عین سحری کے وقت ان کے علاقے کی بجلی غائب ہوجاتی ہے ،اس حوالے سے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے ،صبا عارف کہتی ہیں کہ سحری میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے سب کی پسند کے مطابق کھانا بنانا بہت مشکل ہو جاتا ہے
روزہ مسلمان اللہ کی رضا کے لئے رکھتا ہے ،لیکن سارا دن روزہ میں بھوک پیاس برداشت کرنے کے بعد جب عین افطاری کے وقت بجلی غائب ہو جائے تو روزے کی عبادت کو بھی ایک زحمت ہی بنا دیا جاتا ہے،آمنہ خان ایک ٹیچر ہیں ،گھر بھر کے لئے افطاری بنانا ان کی ذمہ داری ہے،افطاری کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ سے ہونے والی پریشانی کے بارے میں آمنہ کہتی ہیں۔
امبرین ناز ایک ابھرتی ہوئی نوجوان ڈریس ڈیزائنر ہیں،امبرین کے مطابق سحری کا وقت ایسا ہوتا ہے کہ اس میں کم سے کم وقت میں سلائی کا زےادہ سے زےادہ کام نمٹاےا جا سکتا ہے ،لیکن لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ان کی سلائی کا کام بہت متاثر ہوتا ہے۔
رمضان المبارک جیسے باسعادت مہینے میں جہاں مسلمان اس مہینے کے فیوض برکات سمیٹ رہے ہیں وہیں لوڈ شیڈنگ کے باعث ان کے معمولات عبادت بری طرح متاثر ہو رہے ہیں،خواتین کے لئے سحری اور افطاری میں کی جانے والی لوڈ شیڈنگ کسی آزمائش سے کم نہیں ،لیکن اس کے باوجود خواتین اپنے گھر والوں کی خدمت وا طاعت میں کوئی کمی آنے نہیں دیتیں۔