Lady Health Workers لیڈی ہیلتھ ورکرز

پاکستان میں شعبہ صحت میں لیڈی ہیلتھ ورکرز ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، جن علاقوں تک ڈاکٹرز کی رسائی ممکن نہیں وہاں لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کے خواتین کو صحت اور زچگی سمیت دیگر معلومات فراہم کرتی ہیں ،لیکن ملک بھر کی لیڈی ہیلتھ ورکرز کو شکایت ہے کہ اُن کی خدمات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے 1994میں لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کا آغاز کیا تھااورگزشتہ17سالوں سے ملک بھر میں کام کرنے والی ایک لاکھ10ہزار سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرزکو تاحال مستقل نہیں کیا گیا ہے اسکے علاوہ اُن کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف انکی تنخواہیں وقت پر جاری کی جائیں بلکہ ان میں اضافہ بھی کیا جائے، اس سلسلے میں ملک بھرمیںلیڈی ہیلتھ ورکرز کی جانب سے وقتاًفوقتاً احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
پیر کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ملک بھر سے آنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز نے احتجاجی دھرنا دیا، اس دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا جس کے باعث کئی خواتین زخمی ہو گئیں۔آل پاکستان لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کی صدر رخسانہ کا کہنا ہے کہ تمام ورکرز کو 6ماہ کی تنخواہوں اور مختلف اوقات میں جاری کی گئی پولیو مہم، ڈینگی بخار سروے اور دیگر ویکسنیشن مہم کے دوران ان کی خدمات کا معاوضہ جلد از جلد ادا کیا جائے:
ایسوسی ایشن صدر رخسانہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 4سال سے لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنے حقوق کیلئے مطا لبات کر رہی ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں :
آل پاکستان لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کی صدر رخسانہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے انھیں محض تسلیاں دی جارہی ہیں جبکہ دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی شکایات اور مطالبات کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا حکم دیا ہے، رخسانہ سمیت لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام سے منسلک تمام خواتین کو اُمید ہے کہ شاید اب اُن کے مسائل حل ہوجائیں:
اپنے حقوق حاصل کرنے اورجائز مطالبات کی منظوری کیلئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی جانب سے کئے گئے پر امن مظاہروں میں پولیس کی جا نب سے جس وحشیانہ ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا وہ انتہائی افسوس ناک اَمر ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *