Lady health workers لیڈی ہیلتھ ورکرز

سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے 1994میںنیشنل پروگرام برائے فیملی پلاننگ اینڈ پرائمری ہیلتھ کا آغاز کیا تھا،پاکستان میں شعبہ صحت میں لیڈی ہیلتھ ورکرز ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، جن علاقوں تک ڈاکٹرز کی رسائی ممکن نہیں وہاں لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کے خواتین کو صحت اور زچگی سمیت دیگر معلومات فراہم کررہی ہیں ۔گزشتہ17سالوں سے ملک بھر میں کام کرنے والی ایک لاکھ10ہزار سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرکا مطالبہ تھا کہ نہ تو انھیں وقت پر تنخواہیں جا ری کی جاری ہیں اور نہ انھیں ریگولرائز کیا جا رہا ، اس سلسلے میں ملک بھرمیںلیڈی ہیلتھ ورکرز کی جانب سے وقتاًفوقتاً احتجاج کا سلسلہ بھی جاری تھا۔حال ہی میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ملک بھر سے آنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز نے احتجاجی دھرنا بھی دیاتھا، جسکے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی شکایات اور مطالبات کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا حکم دیا تھا۔جسکے بعد حال ہی میں حکو مت کی جانب سے نیشنل پروگرام کے ایک لاکھ چھ ہزار ملازمین کو ریگولر کر نے کا اعلان کیا گیا ہے،اس سلسلے میںآل پاکستان لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کی صدر رخسانہ کا کہنا ہے:
تنخواہیں نہ ملنے اور ریگولرائز نہ کئے جانے کے باعث لیڈی ہیلتھ ورکرز میں شدید بے چینی دیکھنے میں آئی تھی اور پروگرام سے منسلک بیشتر ملازمین خاصے دلبر داشتہ بھی ہوئے تھے ،اس سلسلے میںآل پاکستان لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کی صدر رخسانہ کا کہنا ہے کہ جو خواتین بحیثیت لیدی ہیلتھ ورکرز خدمات انجام دے رہی ہیں ، سہولیات، مراعات اور بروقت تنخواہیں انکا حق ہیں:
وزیر برائے مذہبی اُمور خورشید شاہ کی سر براہی میں فیڈرل کیبنٹ سب کمیٹی کی جانب سے نیشنل پروگرام کے ایک لاکھ چھ ہزار ملازمین کو مستقل کرنے کا نوٹفکیشن جا ری کر دیا گیا ہے جن میں چاروں صوبوں ، فاٹا اور گلگت بلتستان کے ملازمین بھی شامل ہیں، اس بارے میں آل پاکستان لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کی صدر رخسانہ کا کہنا ہے:
شعبہ صحت سمیت دیگر شعبہ جات سے منسلک خواتین کیلئے جہاں مسائل اور رکاوٹیں موجود ہیں وہیں اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف خواتین پروفیشنلز کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ اُنکے مطالبات کی منظوری اور شکایات کے ازلے سے یقیناانکی کارکردگی میں بھی مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئے گی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *