پاکستان سمیت پوری دنیا میں آج نسلی امتیاز کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ یہ دن اکیس مارچ انیس سو ساٹھ کو جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے قوانین کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے مرنے والے ساٹھ افراد کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے زیرتحت اس عالمی دن کو منائے جانے کا مقصد انسانی حقوق کی پاسداری اور ہماری اجتماعی ذمہ داری کو فروغ دینا ہے۔
پہلی بار نسلی امتیاز کے خاتمے کا عالمی دن 1966 میں منایا گیا۔ عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر میں نسلی امتیاز کے خلاف شعور اجاگر کرنے کے لئے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔
دنیا میں ہر دور میں ہی لوگوں کو رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اگرچہ اسلام نے اس تصور پر ضرب لگائی تھی تاہم آج تک نسلی امتیاز کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوسکا اور آج بھی لاکھوں افراد نسلی امتیاز کا شکار ہو رہے ہیں۔
اگرچہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق معاہدے کے تحت تمام افراد برابر ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس پر عمل اب تک نہیں ہوسکا ہے اور مغرب میں سیاہ فام برادری تاحال تاحال نسلی امتیاز کا شکار ہے۔
پاکستان میں ویسے تو نسلی امتیاز کا مسئلہ زیادہ بڑا نہیں لیکن ہاریوں، بھٹہ مزدوروں اور ان جیسے دوسرے طبقات پر غیر انسانی سلوک کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔
