اس سال پاکستان سے ایک لاکھ 65ہزار افراد حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے تھے لیکن ابتدائی دنوں میں ہی ناقص انتظامات خبریں منظر عام پرآنے لگیں، جس کے بعد حکومت نے سابق ڈائریکٹر جنرل حج راو شکیل کو گرفتار کر کے ان کے خلاف الزامات کی تحقیقات شروع کر دیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال بھی حج کے دوران اربوں روپے کی کرپشن کی رپورٹس سامنے آئیں جبکہ رواں ماہ کے آغاز پرچیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے عازمین حج کے لئے حاصل کردہ رہائشگاہوں کے حصول میں بدعنوانی سے متعلق سعودی شہزادے بندر بن خالد بن عبدالعزیز السعود کے چیف جسٹس کو بھیجے گئے خط پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے وزارت مذہبی امور سے 15 روز میں جواب طلب کیاتھا۔ سعودی شہزادے نے خط میں لکھا ہے کہ ان کی کمپنی نے پاکستانی عازمین کے لئے حرم سے دو کلومیٹر کے اندر رہائشگاہیں 3350 ریال کرائے پرفراہم کرنے کی پیشکش کی تھی،مگر پاکستانی وزارت مذہبی امور کے حکام نے پیشکش یہ کہہ کر رد کر دی کہ انہیں رہائش گاہیں دو کلومیٹر کی بجائے ساڑھے تین کلومیٹر کے اندر چاہئیںتاکہ کرایہ کم ہو۔جبکہ اس کے برعکس ساڑھے تین کلومیٹر سے بھی زائد فاصلے پررہائش گاہیں حاصل کی گئیں اور کرایہ 34 سے 36 سو ریال ادا کیا گیاحالانکہ ساڑھے تین کلومیٹر کے اندر مارکیٹ ریٹ پر کرایہ 1500 ریال ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس لئے جانے پر وزارت مذہبی امور کا کہنا تھاکہ سعودی شہزادے کی جانب سے چیف جسٹس کو لکھا گیا خط جعلی لگتا ہے۔سیکرٹری مذہبی امور آغا سرور قزلباش نے کہا کہ سعودی عرب میں ایک بڑا مافیا کام کر رہا ہے جو اس خط کے لکھنے میں ملوث ہو سکتا ہے۔تاہم وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے اس خط کی تصدیق کے بعد وفاقی وزیر مذہبی امور نے خط اوراس تمام معاملے کے بارے میں اپنی پریس کانفرنس میں یہ کہا۔
حج کے آغاز سے پہلے مہنگی رہائش گاہوں کا معاملہ سامنے آیا تو دوران حج صاف پانی اور صفائی کی سہولیات کی عدم
دستیابی پاکستانی عازمین کیلئے مسئلہ بنی،جبکہ حج کے بعد ٹرانسپورٹ کا حصول اور وطن واپسی بھی ایک مشکل مرحلہ بن چکی ہے۔
عازمین حج کیلئے رہائش گاہوں کا انتظام وزارت مذہبی امور کی حج ہائرنگ کمیٹی نے کیا تھا،جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی ہائرنگ ریویو کمیٹی نے ماہ رمضان کے دوران سعودی عرب کا دورہ کیاجس میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین سینیٹر مولانامحمدصالح شاہ، سینیٹر خالدسومرو،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین مولانا محمد قاسم، محمد بلال اور مسلم لیگ ن کے عمران شاہ شامل تھے۔ مولانا محمد قاسم نے ہائرنگ ریویو کمیٹی کی رپورٹ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا۔
تاہم صورتحال ا±س وقت سنگین ہو گئی جب ریاض میں پاکستانی سفیر عمر خان علی شیرزئی نے میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں الزام لگایا کہ حاجیوں کو سعودی عرب بھیجنے والے ٹور آپریٹرز نے فی کس 25ہزار کمیشن وصول کیااور انہوں نے اس بد انتظامی کا ذمہ داروفاقی وزیرمذہبی ا±مور حامد سعید کاظمی کو ٹھہرایا۔ حکمران اتحاد میں شامل جمعیت علماءاسلام فضل الرحمن گروپ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے بھی حامد سعید کاظمی کیخلاف بدعنوانی کے ثبوت رکھنے کا دعوٰی کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے انھیں برطرف کر نیکامطالبہ کیا ہے۔جبکہ وزیراعظم گیلانی نے دونوں وفاقی وزراءکو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے باز رہنے کی ہدایت کی ہے۔
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین سینیٹرمولانامحمدصالح شاہ بھی قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹ کو واضح ثبوت قرار دیتے ہوئے وزارت مذہبی امور کوذمہ دار ٹہراتے ہیں۔
سابق ڈائریکٹر جنرل حج راﺅ شکیل ماضی میں ملتان میں ڈپٹی کمشنر تھے،جہاں انکے خلاف کرپشن کے مختلف مقدمات قائم ہوئے اورانکے بیرون ملک جانے پر پابندی لگا دی گئی مگر موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو انہیں ڈائریکٹر جنرل حج بنادیا گیا اور بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی گئی۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین مولانا محمد قاسم،راﺅ شکیل کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
جبکہ سابق ڈی جی حج راﺅ شکیل کا کہنا ہے کہ حج آپریشن میں ہونیوالی کرپشن کے ذمے دار وزارت مذہبی امور کے سیکرٹری آغاسرور قزلباش ہیں۔آغا سرور رضا قزلباش کا تعلق بھی ملتان سے ہے اور وہ سیکرٹری مذہبی امور کی حیثیت سے تقرر سے قبل وزیراعظم کے دفتر میں ایڈیشنل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے ہوئے سیاسی معاملات کو ڈیل کررہے تھے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کی ٹھوس اور شفاف تحقیقات کروا کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ مستقبل میں عازمین اس طرح کی مشکلات سے بچ سکے
