Ghotkii گھوٹکی

اندرون سندھ سمیت ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں میں لوگوں میں ذہنی امراض کے حوالے سے آگہی نہ ہونے کے برابر ہے ،حال ہی میں گھوٹکی میں ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ سامنے آیا ہے ، ذہنی طور پر معذور15سالہ لڑکی کو اُسکے اِہل خانہ نے گزشتہ کئی سالوں سے گھر کے احاطے میں جانور کے ساتھ زنجیروں سے باندھ رکھا تھا ،گھوٹکی سے پی پی آئی کے نمائندے نذیر احمد ملک کا کہنا ہے کہ محلہ رحموں والا میں گدھا گاڑی چلانے والے محنت کش احمد علی شیخ نے گزشتہ دس سالسے اپنی بیٹی کو جو کہ ذہنی طور پر معذور ہے ، گدھے کے ساتھ باندھ رکھا ہے،احمد علی کے مطابق شروع میں تو کچھ عرصے بابرا کا علاج کروایا گیا لیکن مہنگے علاج کے باعث اس غریب خاندان کی حالت فاقہ کشی تک پہنچ گئی، ذہنی طور پر بیمار بیٹی کو گدھے کے ساتھ باندھ کر رکھنے والے احمد علی کا کہنا ہے کہ غریب اگر روز کی دال روٹی کے پیسے علاج پر خرچ کر دے توکھائے گا کیا؟
اسی گاﺅں کے ایک اور گھر میں ذہنی طور پر معذور ایک 25سالہ نوجوان کو بھی اُسکے گھر والوں نے انتہائی ابتر حالت میںگدھے کے ساتھ باندھ رکھا ہے،بابرا اور یہ نوجوان دن بھر جانوروں کے ساتھ زنجیروں سے بندھے رہتے ہیں اورگھر والے انھیں جانوروں کے ساتھ ہی کھانا دیتے ہیں:
قابل ذکر بات یہ ہے کہ میڈیا پر یہ خبر چلنے کے بعد احمد علی کے گھر پر پریس اور پولیس والوں نے دھاوا بول دیا ،صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں نبھاتے رہے اور پولیس اپنی ۔۔۔اس ساری صورتحال اور پولیس کے معائنے سے گھبرا کر بابرا کے گھر والوں نے اُسے زنجیروں سے آزاد کر دیا ، اب بابرا خوش نصیبی سے انسانوں کے بیچ انسانوں جیسی زندگی گزار رہی ہے لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ ذہنی طور پر معذور بابرا کا علاج کروانے اور اُسکے اہل خانہ کی مالی امداد کیلئے نہ توکوئی فلاحی ادارہ کوئی این جی او سامنے آئی ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے اس واقعے کا کوئی نوٹس لیا گیا ۔۔۔غربت اور افلاس کے مارے ہوئے لوگ جن کے پاس تن ڈھانپنے اور کھانے کو نہیں ، ایسے میں اس نوعیت کے غیر انسانی سلوک کی مثالیں کچھ ایسی تعجب خیز بات نہیں ،جہاںگولی سستی اور روٹی مہنگی ہو ، وہاںغریب اپنا تن ڈھانپے یا پھر اپنے بچوں کا علاج کروائے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *