Gas Load Managment & Industries گیس کی فراہمی اور صنعتیں

وفاقی سیکریٹری پٹرولیم امتیاز قاضی نے کہاہے کہ ملک میں قدرتی گیس کے موجودہ شارٹ فال میں اگلے دس سالوں کے دوران تین گنا اضافے کاخدشہ ہے۔زیرزمین ٹائٹ گیس ذخائر نکالنے کیلئے مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری لی جائے گی۔ سیکریٹری پٹرولیم نے 29جنوری کو اسلام آباد میں تیل اورگیس کانفرنس سے خطاب میں کہاہے کہ گیس کی یومیہ طلب6 ارب اور فراہمی4 ارب مکعب فٹ ہے۔اس طرح شارٹ فال2 ارب مکعب فٹ ہے ، آئیندہ دس برس میں طلب میں مزید8 ارب مکعب فٹ کا اضافہ متوقع ہے جس سے شارٹ فال 6 ارب مکعب فٹ ہوسکتا ہے۔
ان بیانات سے ملک میں گیس کے بحران کی شدت کا تھوڑا سا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔آل پاکستان کاٹن پاور لومز کے نائب چیئرمین محمد اکرم غوری کا کہنا ہے کہ گیس کے بحران کے باعث بیس سے تیس فیصد پاورلومز بند ہوچکی ہیں۔
ملک کے مختلف حصوں میں سی این جی سٹیشنز ہفتے میں دو دن بند کرنے کا سلسلہ کافی عرصے جاری ہے، جبکہ صوبہ پنجاب کی صنعتوں کو ہر ہفتے چار سے پانچ دن گیس کی عدم فراہمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،جسکی وجہ سے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل صنعتیں بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کا رخ کررہی ہیں۔محمد سعید شیخ آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین ہیں،وہ اس بارے میں بتارہے ہیں۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن اپٹماکے مطابق گیس کی سپلائی میں تعطل کی وجہ سے گذشتہ ایک سال کے دوران اس صنعت کو چار ارب ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے،جبکہAll Pakistan Cloth Exporters Associationکے چیئرمین وسیم لطیف کے مطابق صنعتوں کو گیس ایک روز بند رہنے سے ایک ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
پنجاب کیساتھ ساتھ سندھ میں بھی صنعتکار گیس کے بحران سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔Pakistan Hosiery Manufacturers Associationکے چیئرمین سلیم پاریکھ کا کہنا ہے کہ سندھ میں خام مال پنجاب سے آتا ہے،پنجاب میں دھاگے کی پیداوار میں کمی کا اثر سندھ پر بھی پڑرہا ہے۔
یہ صورتحال اس ملک میں ہے جہاں تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں، کوئلہ جیسی قیمتی شئے وافر مقدار میں ہے اور کوئلہ کے ذخائر کا انرجی لیول سعودی عرب اور ایران میں تیل کے ذخائر کے برابر ہے۔سوئی ناردرن گیس کمپنی کے جنرل منیجر ریحان نواز کا کہنا ہے کہ گیس کی پیداوار جتنی ہوگی اسی حساب سے لوڈمنیجمنٹ پروگرام تیار ہوگا ۔
تاہم صنعتکاروں کا الزام ہے کہ حکومت گیس بحران کے حوالے سے اپنے وعدے پورے نہیں کررہی۔
حکومت توانائی کے اس بحران پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے، آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین محمد سعید شیخ اس حوالے سے تجاویز دے رہے ہیں ۔
حکومت نے بحران پر قابو پانے کیلئے ایران سے گیس درآمد کرنے کے منصوبے کے علاوہ حال ہی میں ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک گیس پائپ لائن منصوبے پر دستخط کیے ہیں،جبکہ وزرات پٹرولیم اور وزرات پانی وبجلی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اندرون ملک بھی توانائی کے زیر زمین ذخائر کے تلاش کے لیے کام کر رہے ہیں۔مگر Pakistan Hosiery Manufacturers Associationکے چیئرمین سلیم پاریکھ کا کہنا ہے کہ فرٹیلائز یا دیگر صنعتوں کی بجائے برآمد کنندگان کو گیس کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔
جبکہ All Pakistan Cloth Exporters Associationکے چیئرمین وسیم لطیف کے خیال میں اس بحران کا حل بہت سادہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *