ایونٹ مینجمنٹ۔۔۔ایک ایسا شعبہ جو دنیا بھر میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے،کارپوریٹ تقریبات سے لے کرشادی بیاہ کی رنگا رنگ رسموں تک اور کانفرنسز کے انعقاد سے لے کر اسٹریٹ فیسٹول تک ایونٹ مینجمنٹ سے منسلک ادارے ہر موقع پر اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔گلیمر اورجدت لئے اس فیلڈ میں خواتین کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور سچ پوچھیں تو تخلیقی صلاحیتوں کے اظہارکے ساتھ ساتھ خواتین اس شعبے میں موجود چیلنجز کا بھی اعتماد سے سامنا کر رہی ہیں۔
کراچی میںLa celebratorsایونٹ مینجمنٹ ادارے کی سربراہ ذورید رضا گزشتہ14سالوں سے اس شعبے میں ہیں ،انھوں نے بحیثیت ویڈنگ پلانر اپنے کریئر کا آغاز کیا اور آج وہ بحیثیت ایونٹ پلانر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ذورید رضا کا کہنا ہے کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اب اس شعبے میں خواتین کی تعداد میں نہ صرف اضافہ ہو اہے بلکہ خواتین پروفیشنلز کی بدولت اس فیلڈ میں تخلیق ، جدت اور انفرادیت کا خوبصورت امتزاج بھی دکھائی دیتا ہے:
کاروباراور ملازمت کے ساتھ ساتھ اس فیلڈ میں قدم رکھنے والی خواتین کیلئے انٹرن شپ کے مواقع بھی موجود ہیں ۔دیگر ملازمتوںکی طرح 9سے 5کی جاب نہ ہونے کے باوجود یہ فیلڈ اپنے اندر جدت کے خوبصورت رنگ سمیٹے ہوئے ہے جسکی وجہ سے قدرے ٹف اور محنت طلب امور کے باوجود خواتین کی دلچسپی اس فیلڈ میں بڑھتی جا رہی ہے۔ ایونٹ مینجمنٹ سے متعلق کئی تعلیمی اداروں میں شارٹ اور ڈپلومہ کورسز کروائے جا رہے ہیں اس بارے میں ذورید رضا کا کہنا ہے:
ذورید رضا کا کہنا ہے کہ اس فیلڈ میں پروفیشنل افراد کی خاصی کمی ہے ،جبکہ بیرون ممالک میں صورتحال بالکل مختلف ہے:
ایونٹ پلاننگ سے منسلک خواتین کیلئے ملٹی ٹاسکنگ کی صلاحیت ہونا بے حد ضروری ہے، ذورید رضا کا کہنا ہے کہ بیک وقت کئی شعبوں میںرہتے ہوئے مختلف امور انجام دینا ایونٹ پلاننگ کی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے ، اسکے علاوہ کسی بھی تقریب کے کامیاب انعقاد کیلئے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کے ساتھ موئثر ابلاغ کی صلاحیت اور ڈیڈ لائن سے قبل تمام انتظامی امور کی انجام دہی ایونٹ پلانرز کیلئے بے حد ضروری ہے :
پاکستان سمیت دنیا بھر میں شادی بیاہ کی تقریبات کے انعقاد کیلئے ایونٹ منیجرز کی خدمات حاصل کی جاتی ہیںاور تھوڑے سے زیادہ بجٹ میں شادی کی تقریب کو یادگار بنانے کیلئے ایونٹ مینجمنٹ ادارے ایک ہی جگہ تمام سروسز فراہم کرتے ہیں، اور یوں جس گھر میں شادی ہو وہاں کام کا دباﺅ نسبتاً کم ہو جاتا ہے ، پھولوں کی سجاوٹ ہو یا میرج گارڈن کا انتخاب،رنگوں کا چناﺅ ہو یا روشنیوں کی بہار ویڈنگ پلانرز کی بدولت شادی کی تقاریب زندگی بھر کیلئے یادگاربن جاتی ہیں، ذورید رضا کا کہنا ہے کہ گزشتہ سالوں میں جہاں مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے وہیںشادی بیاہ کی تقریبات کے انعقاد کیلئے لوگوں کی ڈیمانڈ ز میں بھی اضافہ ہوا ہے:
پاکستان کے بیشتر شہروں میں امن و امان کی بدترین صورتحال نے جہاں بے شمار شعبوں کو متاثر کیا ہے وہیں بھرپور طریقے سے تقریبات کے انعقاد کے رجحان میںبھی نسبتاً کمی آئی ہے نہ صرف شادی بیاہ بلکہ دیگر کارپوریٹ ایونٹس اور فیشن شو جیسی تقریبات بھی دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں کم منعقد کی جاتی ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ سیکیورٹی کا مسئلہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مستحکم ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی مصنوعات کی تشہیر کیلئے منعقد کئے گئے خصوصی فیشن شوز، کنسرٹس اور دیگرز ایونٹس کے انعقاد کیلئے دبئی ، انڈیا یا دیگر ممالک کا انتخاب کرتی ہیں،اگر اس صورتحال پر قابو پایا جائے تو نہ صرف ایونٹ مینجمنٹ کی فیلڈ پاکستان میں مزید ترقی کر سکتی ہے بلکہ خواتین کو بھی اس شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع مل سکتے ہیں۔