Energy Saving Plans توانائی کی بچت

      22 اپریل 2010ءکو حکومت نے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بجلی بچانے اور اس کی پیداوار بڑھانے کےلئے متعدد اقدامات کا اعلان کیاجن پر عمل کر کے آئندہ چند روز کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ میں 33 فیصد کمی کی جانی تھی۔ توانائی کے بحران پر صوبائی حکومتوں کے سربراہوں کے ساتھ3 روزہ کانفرنس کے دوران تیار کردہ سفارشات کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ بچت مہم کے ذریعے 500 میگا واٹ بجلی بچائی جائے گی اور سرکلر ڈیٹ یا اداروں کے درمیان قرض کی مد میں مختلف سرکاری محکموں کے ذمہ پاور سیکٹر کے 116 ارب روپے کی فوری ادائیگی کی جائے گی جس سے پاور پلانٹس کی پیداواری صلاحیت میں فوری اضافہ متوقع ہے۔ وزیراعظم نے پورے ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم کرنے کابھی اعلان کیا،جبکہ وفاقی وزیرپانی وبجلی راجہ پرویزاشرف نے بتایا کہ تمام سرکاری محکموں میں ہفتے میں2 چھٹیاں کی جائیں گی۔پورے ملک میں ادویات کی دوکانوں اور بیکری کے علاوہ تمام تجارتی مراکز اور بازاررات8 بجے کے بعد بند رہیں گے جبکہ شادی ہال صرف3 گھنٹوں کے لیے کھولے جائیں گے۔اسکے علاوہ انکا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں میں گریڈ 20 اور اس سے زائد گریڈکے افسر صبح 11بجے سے پہلے اور 3 بجے کے بعدائیر کنڈیشنرز استعمال نہیںکر سکیں گے اوراس سے کم گریڈکے افسران کے خلاف ائیرکنڈیشنرز استعمال کرنے پرتادیبی کارروائی کی جائے گی۔
اسی منصوبے کے تحت ملک بھرکے سی این جی اسٹیشن ہفتے میں ایک دن بندرکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں منگل کی صبح 6 بجے سے بدھ کی صبح6 بجے تک، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں جمعے کو دوپہر12 بجے سے ہفتے کی دوپہر12 بجے تک سی این جی اسٹیشن بندرکھے جارہے ہیں،جسکی وجہ سے پیدا ہونیوالی مشکلات کا شکار بھی عوام ہی ہیں۔

اگرچہ سی این جی اسٹیشنز کا مقصد پاورپلانٹس کو اضافی گیس فراہم کرنا تھا، جسے بقول پیپکو چھ سومیگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی، تاہم آل پاکستان سی این جی اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدابخش اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔انکا کہنا ہے کہ سی این جی اسٹیشنز بندرکھ کے گیس کی بچت بہت کم ہورہی ہے۔
اسی بارے میں آل پاکستان پیٹرولیم اینڈ سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان کا نکتہ نظریہ ہے۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں سینماگھر بھی رات8 بجے بند کرنیکے احکامات جاری کیے گئے مگر سنیما مالکان کے احتجاج کے بعد یہ حکم واپس لے لیا گیا۔
مگر ان اعلانات اور اقدامات کے بعدکیا واقعی حالات میں بہتری آئی ؟بنیادی طورپر اس پالیسی کے2نکات زیادہ توجہ کا مرکز رہے، ایک سرکاری دفاتر و تعلیمی اداروں میں 2روزہ تعطیلات اور دوسرا بازار رات8 بجے بند کرانا۔ توانائی کانفرنس کے فیصلوں کے مطابق تاحال ملک بھر میں رات 8 بجے تجارتی مراکز اور دکانیں بند نہیں کرائی جاسکیں ۔تاجر حلقوں کا کہنا ہے کہ افراط زر میں اضافے اور عوام کی قوت خرید میں ہونے والی مسلسل کمی کے باعث انکا کاروبار پہلے ہی زوال کا شکار ہے, اس صورتحال میں ہفتے میں2 روزمالیاتی اداروں کو بندرکھنے سے ملکی معیشت بھی مزید ابتری کا شکار ہو گی اور بیروزگاری ، سماجی بے چینی بڑھے گی۔
اسی طرح توانائی کی بچت کے لئے تمام سرکاری اداروں، درسگاہوں اور مالیاتی اداروں کو ہفتہ وار2 چھٹیوں کا پابند کرنےکے فیصلے پرابھی تک پورے ملک میں یکساں نفاذ کی نوبت نہیں آ سکی ہے۔عدلیہ، ڈاک، صحت اور دوصوبوں میں تعلیم کے شعبے کواس فیصلے سے استثنٰی دے دیاگیا ہے ۔اگر اس حکومتی فیصلے کا جائزہ لیا جائے تو ایک دن کی اضافی چھٹی کے نتیجے میں 5 دنوں پر مشتمل ہفتے کے سرکاری اوقات کار صبح 8بجے سے سہ پہر4 بجے تک ہوگئے,جوپہلے کے شیڈول کے مطابق صبح 8بجے سے دوپہر 2بجے تک ہوتے تھے۔اسطرح اگرنئے شیڈول کے دفتری اوقات کار میں روزانہ2 گھنٹے کے کل اضافی وقت کا موازنہ،6 دنوں کے سابقہ اوقات کار سے کیا جائے تو اس میں فائد ے کی بجائے نقصان کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ اسی طرح اگر فی یوم ان2 اضافی گھنٹوں میں جمعے کے 4 اضافی گھنٹوں کو بھی شامل کیا جائے تو ایک یوم کی اضافی چھٹی سے عملاًحکومت نے اسکے بدلے میں 3 گنا زیادہ بجلی کے استعمال کی راہ ہموار کر دی ہے۔
دفاتر میں11بجے سے پہلے اور3 بجے کے بعد ائیر کنڈیشنرزکے استعمال پر پابندی کے فیصلے پربھی کچھ حد تک تو عمل ہورہا ہے مگر بہت سے دفاتر میں ائیرکنڈیشنرز کا استعمال صبح 11بجے سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ان حالات میں بجلی کی بچت یقینی بنانا مشکل نظر آتا ہے۔اسی بارے میں ممتازانگریزی جریدے energyکے منیجنگ ایڈیٹرنعیم قریشی کہتے ہیں۔
قومی توانائی کانفرنس کے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے ایک اور اجلاس دس مئی کو اسلام آباد میں ہوا،جس میں وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے بجلی کی بچت اور پیداوار میں فوری اضافے کے اقدامات کے اعلان کے تین ہفتوں سے بھی کم مدت میں اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کر لیے ہیں۔انہوں نے صوبائی حکومتوں کو دکانیں اور شادی ہال مقررہ وقت پر بند کرانے کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کی بھی ہدایت کی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *