ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی غفلت سے ہسپتالو ں میں زیر علاج مریضوں کی ہلاکت کے واقعات کا جائزہ لیں تو اس حوالے سے چونکا دینے والی صورتحال سامنے آتی ہے۔
22فروری 2010ءکو کراچی کے جناح ہسپتال میں غلط گروپ کا خون لگنے سے17سالہ لڑکی جاں بحق ہوگئی۔
31جنوری2010ءکو لکی مروت کے گاﺅں کٹاخیل میں غلط انجیکشن لگنے کے باعث 2کمسن سگے بھائی جاں بحق ہوگئے۔
25جنوری کو کراچی کے ایک نجی اسپتال میں 17سالہ لڑکی انعم ڈاکٹروں کی جانب سے غلط انجیکشن لگنے کے باعث جاں بحق ہوگئی۔
7 دسمبر2009ءکو اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں مانسہرہ سے مسلم لیگ ن کے ایم این اے فیض محمدخاں کوڈیڑھ گھنٹے تک کسی ڈاکٹر نے طبی امداد نہیں دی اور اسی دوران ان کی موت واقع ہو گئی۔
29 نومبر2009ءکو برطانیہ سے لاہورآنیوالے عقیل ملک کی 3 سالہ بیٹی ایمانے ملک ڈاکٹروں کی جانب سے یکے بعددیگرے تین انجیکشن لگائے جانے کے بعد خالق حقیقی سے جا ملی۔
25اکتوبرکو معروف کرکٹر وسیم اکرم کی اہلیہ ہما وسیم بھارت کے شہر چنائی میں جاں بحق ہو گئیں۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ میں ہما وسیم کے علاج میں غفلت کی نشاندہی کرتے ہوئے نیشنل ہسپتال لاہور میں ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی پر زور دیا گیا تھا۔
اسی طرح جون 2009ءسے اکتوبر2009ءکے واقعات کا مختصرجائزہ لیں تو غیرموافق خون لگنے سے ایک خاتون سمیت تین افراد، ڈاکٹروں کی غفلت سے ایک خاتون سمیت دوافراداورغلط انجیکشن لگنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوئیں، جبکہ جعلی ادویات کے استعمال سے ایک حاملہ خاتون کی حالت اتنی بگڑگئی کہ وہ چھ ماہ تک ہسپتال میں زیرعلاج رہےں۔
یہاں یہ واضح رہے کہ یہ تفصیلات صرف ان واقعات کی ہے جن میںمتاثرہ مریضوں کے لواحقین کے احتجاج کے بعد انکوائری کمیشن تشکیل دیے گئے ، قانونی چارہ جوئی کی گئی اور یہ واقعات خبروں کا حصہ بنے۔ڈاکٹروں کی غفلت سے جاں بحق ہونیوالی تین سالہ بچی ایمانے ملک کے والدعقیل ملک اپنے مقدمے کی پیشرفت کے بارے میں بتارہے ہیں۔
تاہم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی کے صدرڈاکٹرادریس ایدھی کے مطابق ان واقعات کا ذمہ دارڈاکٹروں کو قرارنہیںدیا جاسکتا۔
ڈاکٹروں کی غفلت کی عام طورپرمتعددصورتیں سامنے آتی ہیں ،جن میں بروقت طبی امداد نہ ملنا، سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کا غیر ہمدردانہ رویہ،سینئر ڈاکٹرز کی جانب سے خود علاج کرنے کے بجائے کسی زیر تربیت ڈاکٹر کو علاج پر متعین کر دیناجس کے تجربات میں مریض کی جان چلی گئی یا بیماری میں اضافہ ہو گیا،تاہم دیگروجوہات میں ملک میں عطائی ڈاکٹروں کی بھرماراور اور جعلی ادویات کا استعمال بھی شامل ہیں۔اس بارے میں پاکستان میڈیکل اینڈڈینٹل کونسل کے رکن ڈاکٹرشیرشاہ بتارہے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ ہسپتالوں میں جاں بحق ہونے والے کئی مریضوں کی جان بچانا ڈاکٹر کے بس میں نہ ہو،مگرغلط ادویات یا غیر موافق خون لگنے سے ہسپتال میں مریضوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعات کو نظر انداز کرنا غیر حقیقی نقطہ نظر ہو گا۔مگرافسوس کی بات یہ ہے کہ ملک بھر میں ہسپتالوں کے معیار اور ڈاکٹروں کی غفلت کے خلاف شکایات پر چارہ جوئی کا قانون ہی موجود نہیں۔اس بارے میں PMDC کے سیکرٹری ڈاکٹرسہیل ہاشمی بتارہے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد سے بارہا کوششوں کے باوجود رابطہ نہ ہو سکا۔ لیکن چیف سیکرٹری ہیلتھ سندھ فصیح الدین نے اس حوالے سے ہونیوالی پیش رفت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا۔
کچھ عرصے قبل پنجاب اسمبلی میں ’پنجاب ہیلتھ کیئر بل‘ پیش کیا گیا تھا جس کے تحت صوبے میں ڈاکٹروں کے حوالے سے شکایات کا جائزہ لینے کا مجاز ایک صحت محتسب تشکیل دیا جانا تھا، تاہم ڈاکٹروں کی تنظیموں کی طرف سے بے جا شکایات کے بعدحکومت پنجاب نے اس بل کو اسمبلی سے واپس لے لیا۔ڈاکٹروں کی پریکٹس کے خلاف شکایات کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے تحت ایک ڈسپلنری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔اس بارے میں PMDCکے سیکرٹری ڈاکٹر سہیل ہاشمی کا کہنا ہے کہ کمیٹی ہسپتالوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی۔
ان تمام اقدامات کے باوجود مریضوں کی ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی شرح سے حکومت ،پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے دعوﺅں کی حقیقت کھل کرسامنے آجاتی ہے۔
