Death During Pregnancy دوران حمل ہلاکتیں

پاکستان بھر میںدوران حمل ہلاک ہونے والی خواتین کے تناسب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں صورتحال خاصی تشویش ناک ہے،میٹرنٹی ہومز موجود نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو مناسب ٹریٹمنٹ اور تربیت یافتہ اسٹاف کی کمی کے باعث خواتین کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جبکہ دیہی علاقوں میں دوران حمل پیچیدگیوں اور ہلاکتوں کی اہم وجہ گھریلو دائیوں کی خدمات حاصل کر نا بھی ہے۔
شیخ زید اسپتال، لاڑکانہ میں گائنی اینڈ آبسٹیٹرکس ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ ڈاکٹر شاہدہ شیخ کا اس حوالے سے کہنا ہے:

بے شمار خواتین گھریلو سطح پر تشدّد کا نشانہ بنتی ہیں،جو دوران حمل پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے اور بعد ازاں ماں اور بچے دونوں کی زندگی کیلئے خطرہ ثابت ہوتا ہے۔

پاکستان میں رہنے والے لوگوں کی بڑی تعداد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے ، اپنے گھر کی خواتین کو اعلیٰ اسپتالوں تک لے جانا اور دوران حمل کسی پیچیدگی کے نتیجے میںمہنگے ٹریٹمنٹ سے استفادہ کرنا اِن کے بس سے باہر ہے۔
جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے والی خواتین کوسسرالی رشتے داروں کی جانب سے اپنی اور اپنے بچے کی زندگی اور صحت کے بارے میں فیصلہ سازی کا حق نہیں دیا جاتاجو بعد ازاں بچے کی صحت کیلئے مسائل اورماں کیلئے پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے۔
:
خاندانی منصوبہ بندی سے عدم آگہی اور بروقت د رست فیصلے نہ کر نے کے باعث خواتین میں نہ صرف تولیدی امراض کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ حاملہ خواتین میں نفسیاتی امراض بھی جنم لے رہے ہیں،اس حوالے سے خواتین کو شعور وآگہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔دیہی علاقوں میں ایسے اسپتال قائم کئے جانے چاہئیں جہاں لیڈی ڈاکٹرز اورتربیت یافتہ اسٹاف کے علاوہ زچگی کے دوران کسی بھی قسم کی پیچیدگی سے نمٹنے کیلئے جدید ٹرینٹمنٹ کی سہولت موجود ہو ،اس سطح پر حکومتی اور فلاحی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *