گزرتے وقت کے ساتھ مختلف فیلڈز میں خواتین کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آرہاہے لیکن تاحال کچھ فیلڈز ایسی بھی ہیں جن میں خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے،جیسے خواتین کمر شل پائلٹس،جن کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔اس وقت پاکستان کے تمام بڑے شہروںمیں کئی ادارے کمرشل پائلٹ کی ٹریننگ فراہم کر رہے ہیں،حال ہی میں کمرشل پائلٹ کالائسنس حاصل کرنےوالی فاطمہ کا کہنا ہے کہ اِس فیلڈ میں آنے کیلئے جس جنون اور جذبے کی ضرورت ہے وہ بہت کم لوگوں میں موجود ہے:
اس شعبے میں آنے کیلئے کیا اہلیتی شرائط ہیں اس بارے میں فاطمہ کہتی ہیں:
فاطمہ کا کہنا ہے کہ کمرشل پائلٹس کیلئے قومی اور نجی ایئر لائنز جوائن کرنے کے علاوہ بھی وسیع تر ین مواقع موجود ہیں:
قومی سطح پر اس وقت چند خواتین بحیثیت پائلٹ اور کپتان خدمات انجام دے رہی ہیں،فاطمہ کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ پاکستان میں خواتین پائلٹس کی تعداد کم ہے لیکن خواتین اس شعبے میں دلچسپی رکھتی ہیں،اہم بات یہ ہے کہ بد قسمتی سے ہمارے ہاں تقریبا ہر شعبے میں میرٹ کے بجائے خاندانی پس منظر کو اہمیت دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ صلاحیت رکھنے والوں کو آگے آنے کا موقع نہیں ملتا جبکہ دیگر ممالک میں صورتحال اسکے بر عکس ہے:
گزرتے وقت کے ساتھ جہاں نئے نئے شعبے سامنے آئے ہیں وہیں مختلف فیلڈز سے وابستہ خواتین میں پروفیشنلزم کا رجحان بھی بڑھا ہے ایسے میں نوجوان لڑکیوں کو اُن پروفیشنز کو بھی بطور کریئر اپنانا چاہئیے جن میں خواتین کی تعداد کم ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے۔